ہومتازہ ترینایران آبنائے ہرمز کے باہر ’’محدود زون‘‘ قائم کرے گا، اعلیٰ سکیورٹی...

ایران آبنائے ہرمز کے باہر ’’محدود زون‘‘ قائم کرے گا، اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کا اعلان

تہران (شِنہوا) ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک "محدود زون”کا اعلان کرے گا اور اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ہر بحری جہاز کو تہران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دے گا۔

ریاستی ٹی وی چینل آئی آر آئی بی کو دیئے گئے انٹرویو، جو اتوار کی شب نشر ہوا، میں رضائی نے کہا کہ یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی شروع ہونے والی حد سے آبنائے ہرمز کے علاقے اور آبنائے کے دوسری جانب خلیج فارس کے اندر تک پھیلا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کے ساتھ رابطے کے بغیر اس علاقے میں داخل ہوں گے، انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں ان کی بیمہ کوریج اور مستقبل میں اس آبی راستے سے گزرنے پر پابندیاں شامل ہوں گی۔

رضائی نے اس اقدام کو ایران کی جنگ اور سفارت کاری سے متعلق حکمت عملی میں وسیع تر تبدیلی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد امریکہ پر دباؤ بڑھانا ہے۔

ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور اس امریکی دعوے کو مسترد کر دیا کہ بحری جہاز اور تیل بردار ٹینکر اس آبی راستے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے "جھوٹ” قرار دیا۔

رضائی نے تسلیم کیا کہ بعض بحری جہاز عمان کے قریب سے گزرنے والے راستے کے ذریعے آبنائے عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر اپنی نقل و حرکت کا سراغ چھپانے کے لئے نیوی گیشن سسٹم بند کر دیتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر بحری جہاز نشانہ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران فی الحال انہیں غرق کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ اس سے ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ہے۔

رضائی نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے 48 گھنٹے قبل پہلی مرتبہ مقامی طور پر تیار کردہ ایک جنگی جہاز شکن میزائل کے تجربے کے طور پر ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے اس بات کے انتباہ کے طور پر بیان کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کمزور ہے اور اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی میزائل نے امریکیوں کے لئے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہوگئے۔

رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی امن مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے مقرر کئے گئے ایک نئے بین الاقوامی بحری راستے کا اعلان کیا جائے گا تاہم اس راہداری کا انتظام ایران کے پاس ہوگا۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جبکہ امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بحری ناکہ بندی نافذ کر دی تھی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں