وینس بینالے کے چینی پویلین میں درجنوں مہمان قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کے منتظر تھے جہاں ایک روبوٹ آہستہ آہستہ اپنے بازو کو حرکت دے کر روایتی چینی خطاطی کے قلم کو کاغذ پر چلا رہا تھا۔
قلم کی ہر جنبش کے ساتھ کاغذ پر دو چینی حروف تحریر ہوئے جن کے معنی بالترتیب ’’خواب‘‘ اور ’’دھارا‘‘ ہیں۔
یہ منظر حال ہی میں اٹلی کے شہر وینس میں منعقد ہونے والی 61ویں بین الاقوامی آرٹ نمائش ’لا بینالے دی وینیزیا‘ کی چینی پویلین میں دیکھنے کو ملا۔ رواں برس چینی پویلین کی نمائش کا موضوع ’’خوابوں کی دھارا‘‘ ہے۔ نمائش کو یہ موضوع چین کے سونگ خاندان کے دور کی انسائیکلوپیڈیا نما کتاب ’’خوابوں کی دھارا کے مضامین‘‘ سے متاثر ہو کر دیا گیا۔ یہ کتاب شین کو نے لکھی تھی۔
بدھ کے روز 83ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر سے سیاح وینس پہنچ رہے ہیں جبکہ بینالے میں آنے والے افراد کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چینی پویلین میں روایتی چینی ثقافت، عصری فن اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج نے تجسس رکھنے والے بہت سے افراد کی توجہ حاصل کی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ایسٹر ناگی، ہنگرین سیاح
’’یہ دیکھنا دلچسپ تھا کہ انہوں نے گیم کے مرکزی کردار کو کس طرح تیار کیا۔ یہ بالکل ایک روایتی مجسمے جیسا ہے۔ میرے بچے کو یہ بہت پسند آیا۔ اور پھر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ گیم میں کس طرح کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ایڈم لینڈوائی، ہنگرین سیاح
’’مزید چیزیں دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ ہو سکتا ہے میں چین جاؤں۔‘‘
چینی پویلین کی رواں برس کی نمائش 22 نومبر تک جاری رہے گی۔
وینس، اٹلی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


