نیروبی (شِنہوا) کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو بین الاقوامی فنون کی نمائشوں کا انعقاد کیا گیا، جس کی افتتاحی تقریب میں اعلیٰ حکام، سفارت کاروں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ ان نمائشوں کا مقصد چین اور کینیا کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔
پہلی نمائش میں مصوری، سرامکس، مجسمہ سازی اور کڑھائی کے ذریعے چینی دیومالائی تصورات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
دوسری نمائش میں چین کی دیہی احیا کی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ فنون جامع ترقی، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مقامی برادریوں کے روزگار میں کس طرح کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کینیا نیشنل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کینیا اور چین (ایشیا) کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کی کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ندونگو نے کہا کہ یہ نمائشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین، کینیا اور وسیع تر افریقی براعظم کے درمیان تعلقات تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر عوام، ثقافت اور مشترکہ تخلیقی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
ندونگو کے مطابق کینیا اور چین کے درمیان پائیدار تجارتی تعلقات استوار کرنے میں ثقافت اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لئے تخلیقی صنعتوں کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم ضروری ہے۔
ندونگو نے کہا کہ ایسی نمائشیں ثقافتی شراکت داری، سیاحتی مواقع، سرمایہ کاری، تخلیقی مصنوعات کی تجارت اور کاروباری تعلقات کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک خاتون نیشنل میوزیم آف کینیا میں چینی فنون کی نمائش دیکھ رہی ہیں۔(شِنہوا)
کینیا کے نیشنل میوزیمز کی ڈائریکٹر جنرل میری جیکونگو نے کہا کہ نمائش میں چینی ثقافت کی وسعت اور حقیقی رنگ نمایاں ہوتے ہیں اور اس سے افریقی معاشروں کے ساتھ روابط بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
جیکونگو نے کہا کہ یہ نمائشیں محض خوبصورت فن پاروں کی نمائش نہیں بلکہ عوام، ثقافتوں اور خیالات کے درمیان ایک پل ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے سیکھنے، مماثلتوں کو سراہنے اور اپنی مختلف خصوصیات کا احترام کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
کینیا اوورسیز چائنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین گاؤ وے نے کہا کہ یہ نمائش فنون بصری کے ذریعے چین اور کینیا کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
گاؤ نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ فنون کے ذریعے باہمی مفاہمت کو مزید گہرا، دوستی کو مضبوط اور چین و کینیا کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لایا جا سکے گا۔
تقریب کے دوران چین کے سیچھوان فائن آرٹس انسٹی ٹیوٹ نے کینیا کے نیشنل میوزیمز کو 30 سے زائد فن پارے عطیہ کئے۔


