ہومتازہ ترینشنگھائی تعاون تنظیم عالمی نظم و نسق کے لئے ایک منفرد...

شنگھائی تعاون تنظیم عالمی نظم و نسق کے لئے ایک منفرد ماڈل پیش کرتی ہے، سیکرٹری جنرل

بشکیک (شِنہوا) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل نورلان یرمیک بائیف نے کہا ہے کہ ایس سی او جدید عالمی نظم و نسق کے لئے ایک مثال بن سکتی ہے۔

شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تنظیم کے اندر فیصلے باہمی اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں، تمام ممالک کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ہر رکن ملک کے مفادات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے قیام کے 25 برسوں کے دوران ایس سی او نے کثیر جہتی نظام کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، مساوی بنیادوں پر مذاکرات اور منصفانہ بین الاقوامی تعلقات کے نظام کے فروغ کی وکالت کی ہے۔

یرمیک بائیف نے کہا کہ ایس سی او کے پاس عالمی کثیر جہتی تعاون کے لئے ایک ’’تجربہ گاہ‘‘ بننے کے تمام مواقع موجود ہیں، جہاں امن، سلامتی، ترقی اور مذاکرات کے تصورات کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔

ان کے خیال میں ایس سی او کی اہم کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مختلف تاریخی، سیاسی اور تہذیبی روایات رکھنے والے ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی ایک منفرد فضا قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران رکن ممالک نے مساوات، باہمی احترام، ایک دوسرے کے مفادات کو مدنظر رکھنے اور اتفاق رائے کی تلاش پر مبنی کثیر جہتی تعاون کا ایک مضبوط کلچر تشکیل دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیم نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی، انتہاپسندی، بین الاقوامی منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر جدید خطرات سے نمٹنے کے لئے موثر اور مستقل نظام قائم کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس سی او تجارت و سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ رابطوں، توانائی، ڈیجیٹل معیشت، زراعت، ماحولیاتی تحفظ، تعلیم، سائنس، ثقافت، صحت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ یعنی باہمی اعتماد، باہمی فائدہ، مساوات، باہمی مشاورت، تہذیبوں کے تنوع کا احترام اور مشترکہ ترقی کا حصول ایس سی او کی ترقی کی اہم فکری بنیاد ہے، جس کی بدولت تنظیم کے رکن ممالک کامیابی سے تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف خطوں کے ممالک ایس سی او کو جغرافیائی سیاسی مسابقت کے آلے کے طور پر نہیں بلکہ مساوی مذاکرات، باہمی مفاد پر مبنی تعاون اور مشترکہ چیلنجز کے حل کے لئے مشترکہ کوششوں کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یرمیک بائیف نے ایس سی او کے قیام اور ترقی میں چین کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران چین نے مسلسل تنظیم کی ترقی کی حمایت کی ہے اور اس کی ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں