ہومتازہ تریننیویارک اسٹیٹ میں 2 ہزار سے زائد تارکین وطن گرفتار کر لیے،...

نیویارک اسٹیٹ میں 2 ہزار سے زائد تارکین وطن گرفتار کر لیے، عہدیدار امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے سیکرٹری مارک وین ملن نے اعلان کیا ہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں نے ایک کارروائی کے دوران جولائی کے آخر سے اگست کے آخر تک ریاست نیویارک بھر میں 2,197 تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔

نیویارک شہر میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملن نے کہا کہ ’’آپریشن روٹن ایپل‘‘ نے وہ کام کر دکھایا جسے نیویارک شہر اور ریاست نیویارک کے ’’سینکچوئری سیاست دان‘‘ کرنے سے انکار کرتے ہیں، یعنی اس نے ایمپائر اسٹیٹ کو مزید محفوظ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کارروائی میں میئر زہران ممدانی اور گورنر کیتھی ہوچل کی جانب سے کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی۔

ملن نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران ہم نے قاتلوں، زانیوں، بچوں سے زیادتی کرنے والوں، منشیات کے سمگلروں اور پرتشدد حملہ آوروں کو گرفتار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے سرحدی امور کے نگران ٹام ہومن نے کہا کہ نیویارک اور دیگر مقامات کے ڈیموکریٹک سیاست دان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں عوام کی سلامتی کی فکر ہے لیکن وہ امیگریشن کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مجرموں کو تحویل میں لینے کے لئے اپنی جیلوں میں داخل نہیں ہونے دیتے بلکہ اس کے بجائے وہ انہیں اپنی سڑکوں پر آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ ’’یہ بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

دوسری جانب ہوچل نے ڈی ایچ ایس حکام کے ان بیانات کو چیلنج کرتے ہوئے اسی دن ایک الگ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم مجرموں کے لئے پناہ گاہ ریاست نہیں ہیں اور انتظامیہ پر عوام سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔

ہوچل نے کہا کہ صدر کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ ہماری عوامی سلامتی کی کوششوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ دہشت گردانہ حملے ناکام بنانے والی پولیس کے فنڈز بند نہ کریں اور لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ سیاسی کھیل نہ کھیلیں۔

ہوچل نے مزید کہا کہ وہ 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزجاری کریں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں کیونکہ اگر آپ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے جاری ہونے والی فنڈنگ روکتے ہیں تو آپ نائن الیون کے واقعے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہر خاندان کے ساتھ بے وفائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈی ایچ ایس، جو نائن الیون کے واقعات کے ردعمل میں قائم کیا گیا تھا، ریاست نیویارک کی انسداد دہشت گردی کی فنڈنگ کا 40 فیصد روک رہا ہے۔

ممدانی نے کہا کہ اگر کوئی سنگین جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو ہم اس کے بارے میں وفاقی انتظامیہ سے رابطے میں ہوں گے۔

ممدانی نے کہا کہ ہم آئی سی ای کی جانب سے جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ صرف تارک وطن ہونے کے عمل کو مجرمانہ شکل دینے کی کوشش ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پورے شہر اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارے پورے ملک میں تارکین وطن کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے جس نے اتنے زیادہ لوگوں کو خواہ ان کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو اپنے گھر سے باہر نکلنے کے حوالے سے بھی شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں