جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک سے کافی کے شعبے سے وابستہ ماہرین بدھ سے جمعرات تک چین کے جنوب مغربی صوبے یوننان کے شہر پُوئر میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے کافی کی صنعت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
شرکا نے ایک اختراعی مرکز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پُوئر کافی کی معیاری پیداوار، معیار کی نگرانی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے کافی چکھنے، ہاتھ سے ڈرِپ کافی بنانے اور کافی پر دودھ کی جھاگ سے ڈیزائن بنانے کا عملی تجربہ بھی حاصل کیا۔
کافی کی ایک فیکٹری میں انہوں نے پُوئر کافی کی پیداوار کے تمام مراحل کا قریب سے مشاہدہ کیا جن میں کافی کے دانوں کو چُننے اور بھوننے سے لے کر مزید پراسیسنگ اور نئی مصنوعات کی تیاری تک کے مراحل شامل تھے۔
انہیں یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ مقامی کافی کی صنعت نے ثقافتی سیاحت اور دیہی ترقی کو کس طرح فروغ دیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): روس سی ہورن، جنرل منیجر، کمبوڈیا کافی ایسوسی ایشن
’’میں واقعی کچھ دیکھنا چاہتا تھا اور بالآخر مجھے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔ کمبوڈیا کے ایک شہری کی حیثیت سے میری خواہش ہے کہ جب میں واپس جاؤں تو مجھے باہمی تعاون کا کوئی ایسا خیال مل جائے جس کے ذریعے میں کمبوڈیا کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کر سکوں اور اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق ایسا ہی ایک مرکز قائم کر سکوں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): نِستھار کیسم، ایڈیٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈیلی فنانشل ٹائمز، سری لنکا
’’یہ دیکھ کر بہت اطمینان ہوا کہ کافی کے عام کاشتکاروں کی زندگی میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ انہیں بہتر رہائش، بہتر حالاتِ زندگی اور بہتر سہولیات میسر آئی ہیں۔ میرے خیال میں یہ دوسرے ممالک کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔‘‘
پُوئر، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


