ہومتازہ ترینلاہور ہائیکورٹ نے غیرت کے نام پر قتل کیس میں 2 ملزمان...

لاہور ہائیکورٹ نے غیرت کے نام پر قتل کیس میں 2 ملزمان کی ضمانت مسترد کردی

لاہور (لارڈ میڈیا) غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے 18 سالہ لڑکی کے قتل کیس میں ملزمان محمد ناصر اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مدعی اور گواہوں کے منحرف ہونے کے باوجود ملزمان کو ضمانت کا حق نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ الزامات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی ممانعتی شق میں آتے ہیں۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہیں اور ان پر واضح کردار عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان بادی النظر میں مقدمے میں ملوث ہیں۔

عدالت نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل 9 میں دی گئی زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے اور کوئی شخص غیرت کے نام پر کسی کی جان لینے کا حق نہیں رکھتا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں