نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارت کی ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں مسیحی برادری کے خلاف فسادات کو 18 سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرہ خاندان تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ 25 اگست 2008 کو ہندو انتہا پسندوں نے بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاست اڑیسہ میں سینکڑوں مسیحیوں کو قتل کیا تھا۔
ان فسادات میں 600 سے زائد مسیحی گاؤں اور 400 چرچ نذر آتش کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسیحی جاں بحق جبکہ 75 ہزار کے قریب بے گھر ہوگئے تھے۔ ان فسادات کے دوران 100 سے زائد خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں اور کئی خاندان زندہ جلائے گئے۔
مغربی میڈیا کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے جبراً ہزاروں مسیحیوں کو ہندو مذہب اپنانے پر مجبور کیا۔ بجرنگ دل، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پرشاد فسادات کے مرکزی کردار تھے۔
فسادات کے دوران ریاستی سرپرستی اور پولیس کی خاموشی کی وجہ سے 50 ہزار مسیحیوں نے جنگلوں میں پناہ لی۔ ناگاؤں میں 40 انتہا پسندوں نے ایک مسیحی راہبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، لیکن عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر سب کو رہا کر دیا۔
ہیومن رائٹس واچ، یورپی یونین اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے ریاستی سرپرستی میں عیسائیوں کے قتل عام کی مذمت کی، مگر مودی حکومت سیاسی فوائد کی خاطر ملزمان کو سزا دینے سے گریزاں ہے۔


