نیویارک (لارڈ میڈیا) طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بہت کم یا زیادہ نیند قبل از وقت بڑھاپے کا باعث بن سکتی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے یورونگ میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی یا زیادتی سے دماغ، پھیپھڑوں، دل اور مدافعتی نظام کی عمر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور مختلف امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مختصر نیند (6 گھنٹے سے کم) اور طویل نیند (8 گھنٹے سے زائد) حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ کرتی ہیں۔ روزانہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے کی نیند سے حیاتیاتی عمر کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔
ماہرین نے مشین لرننگ ٹیکنالوجی اور بائیولوجیکل انفارمیشن کا استعمال کرتے ہوئے جسمانی اعضا کی عمر کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے 5 لاکھ افراد کی نیند کی عادات کا موازنہ مختلف اعضا کی حیاتیاتی عمر کے ساتھ کیا۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ نیند کی کمی یا زیادتی جسم کی ناقص صحت کی علامت ہو سکتی ہے۔ نیند اور دماغ کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔ مختصر نیند اور ڈپریشن، انزائٹی، موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے درمیان نمایاں تعلق پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختصر اور طویل نیند دونوں سے پھیپھڑوں کے دائمی امراض، دمہ اور نظام ہاضمہ کے سنگین امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


