پشاور (لارڈ میڈیا): خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی طرف سے 6.4 ارب روپے کٹوتی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی رقم کی کٹوتی قبول نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ آئینی اور مالیاتی حقوق کا ہے، جن کے تحفظ کے لیے ہر ممکن راستہ اپنایا جائے گا۔
آفریدی نے بتایا کہ وفاق نے خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کی فراہمی کو عمران خان سے ملاقات کی شرط پر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کو ان کا مقررہ حصہ دینے کی شرط بھی رکھی گئی تھی، جس پر وفاق نے اتفاق کیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ نے 5 اگست کو 6.4 ارب روپے براہ راست کٹوتی کی تجویز دی تھی، جسے صوبائی حکومت نے مسترد کیا اور وفاق کو خط میں عدم رضامندی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ آئینی آرٹیکل 164 وفاق کو یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے تاکہ اپنے حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔


