بیجنگ (شِنہوا) چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے ریاستی کونسل کے ایک حکم نامے پر دستخط کئے ہیں، جس کے تحت بعض انتظامی ضوابط میں ترمیم اور انہیں منسوخ کرنے کے فیصلے کی تشہیر کی گئی ہے۔
یہ اقدام ملک کے تاریخی حیاتیاتی و ماحولیاتی تحفظ کے ضابطے کے ہفتے کے روز نافذ العمل ہونے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ریاستی کونسل 12 ضوابط میں ترمیم کرے گی، جن میں آلودگی کے ذرائع کی قومی شماری اور ماحولیاتی نگرانی سے متعلق ضوابط بھی شامل ہیں، تاکہ انہیں نئے ضابطے کی دفعات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
مزید تین انتظامی ضوابط کو منسوخ کیا جائے گا تاکہ اعلیٰ معیار کی ترقی اور ماحولیاتی پیش رفت کو فروغ دینے کے لئے وضع کئے گئے نئے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
اس اقدام کا مقصد حیاتیاتی و ماحولیاتی تحفظ کے لئے ایک مربوط اور ہم آہنگ قانونی فریم ورک کو یقینی بنانا ہے۔
یہ فیصلہ ہفتے کے روز سے نافذ العمل ہوگا۔
حیاتیاتی و ماحولیاتی تحفظ کے ضابطے کو چین کی اعلیٰ مقننہ نے مارچ میں منظور کیا تھا۔ 1,242 دفعات پر مشتمل اس ضابطے کے 5 ابواب ہیں، جن میں آلودگی پر قابو پانے، ماحولیاتی تحفظ اور ماحول دوست و کم کاربن ترقی سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
یہ ضابطہ چین کے ان وعدوں سے ہم آہنگ ہے جن کے تحت ملک 2030 سے قبل کاربن اخراج کی بلند ترین سطح پر پہنچنے اور 2060 سے قبل کاربن نیوٹریلٹی حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔


