صنعا (لارڈ میڈیا): یمن کی سرکاری فورسز نے تعز میں 24 گھنٹوں کے دوران 300 سے زائد حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری فورسز کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ حوثیوں کے خلاف 700 سے زائد کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں فیلڈ کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں کے اجتماعات، اسلحہ ڈپو اور رسدی راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں 300 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک اور 68 گاڑیاں یا ہتھیار تباہ کیے گئے۔ تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب سعودی حکام نے بتایا کہ مکہ مکرمہ کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک لیے گئے۔
یمن کی حکومت نے حوثیوں پر جنوبی شہر عدن میں بیلسٹک میزائل حملے کا الزام لگایا ہے۔ عدن میں سعودی فورسز کے زیر نگرانی بحری فوجی اڈے اور النصر کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق کوسٹ گارڈز کے ہیڈکوارٹرز اور ایک دوسری عمارت بھی نشانہ بنی۔
حوثیوں کے زیر انتظام ٹی وی چینل ‘المسیرہ’ نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں میں صنعاء اور الحدیدہ میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حوثیوں نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔
سعودی محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ میزائلوں کو روکنے کے دوران نکلنے والا شراپنل جدہ، طائف اور رابغ میں گرا۔ حکام کے مطابق صورت حال سے نمٹنے کے لیے منظور شدہ طریقۂ کار کے تحت اقدامات کیے گئے۔


