ہومتازہ ترینصاف توانائی کے شعبے میں چین کی کامیابیاں عالمی سطح پر توانائی...

صاف توانائی کے شعبے میں چین کی کامیابیاں عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کو تیز کر رہی ہیں، سربراہ آئی ای اے

برلن (شِنہوا) بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں چین کی کامیابیاں قابل ذکر ہیں جس نے عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیز کیا ہے۔

بیرول نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے برلن گلوبل ڈائیلاگ کے موقع پر شِنہوا کو انٹرویو میں بتایا کہ عالمی توانائی بحران توانائی کی منڈیوں کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ممالک روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں (ای وی) کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔

بیرول نے توانائی کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں چین کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ستمبر میں بیجنگ میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اپیک) کے وزرائے توانائی کے 16ویں اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر نمائندوں نے توانائی کے موجودہ بحران اور اس سے نمٹنے کے لئے ایشیا پیسیفک کی معیشتوں کے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال مارچ سے دنیا کو توانائی کے تحفظ کے حوالے سے ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ توانائی کی عالمی ترسیل کے دو اہم راستوں میں خلل ہے، جن پر طویل عرصے سے عالمی توانائی کی فراہمی کا انحصار رہا ہے۔ ان میں روس کے مغربی سائبیریا سے یورپ کو توانائی کی فراہمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ایشیا اور دیگر علاقوں تک توانائی کی ترسیل شامل ہے۔

تیل کی عالمی منڈیوں میں خلل کے اثرات کم کرنے کے لئے آئی ای اے نے 11 مارچ کو اعلان کیا کہ وہ اپنے رکن ممالک کی جانب سے تیل کے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کے عمل میں رابطہ کاری کرے گی۔ بیرول کے مطابق تیل کی قیمتوں میں ابتدائی تیزی کے بعد اس اقدام سے منڈیوں میں پائی جانے والی تشویش کم کرنے میں مدد ملی۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے سے رسد میں رکاوٹ کے اثرات کو عارضی طور پر کم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ دیرپا حل فراہم نہیں کرتا۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر فوژو میں بی وائی ڈی کے اڈے پر گاڑیوں کی تیاری کی ایک اسمبلی لائن دیکھی جا سکتی ہے۔(شِنہوا)

بیرول نے نشاندہی کی کہ تیل اور گیس کی قیمتوں پر اثرات کے علاوہ توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں توانائی کی عالمی تجارت کے تعلقات کو بھی تبدیل کر رہی ہیں، جہاں کئی دیرینہ شراکت داریوں کی جگہ نئے تعلقات لے رہے ہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد توانائی کے شعبے میں ابھرنے والے اہم رجحانات کی نشاندہی کی، جن میں قابل تجدید توانائی میں تیز رفتار اضافہ، برقی گاڑیوں کی فروخت میں بڑھوتری، کوئلے کے استعمال میں معمولی اضافہ اور جوہری توانائی میں نئی پیش رفت شامل ہیں۔

ان کے مطابق توانائی کی پیداوار میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ شمسی توانائی ہے، جس کے بعد ہوا سے حاصل کی جانے والی توانائی کا نمبر آتا ہے۔ حیاتیاتی ایندھن کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ایک وجہ ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔

بیرول نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدشات نہیں بلکہ توانائی کا تحفظ اور ملکی سطح پر توانائی کی پیداوار بڑھانے کی کوششیں بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی بہت سی منڈیوں میں برقی گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تیل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت اس رجحان کی ایک اہم وجہ ہے، جس کے آثار صرف یورپ ہی نہیں بلکہ برازیل، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی نمایاں ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی میں چین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بیرول نے کہا کہ چین میں برقی گاڑیوں کی منڈی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اب ملک میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں ان کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برقی گاڑیوں کا وسیع پیمانے پر استعمال نہ صرف گاڑیوں کی صنعت میں تبدیلی کا باعث بن رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے استعمال کے ڈھانچے کو بھی بدل رہا ہے، جس کے مستقبل کی توانائی کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں