اسلام آباد (لارڈ میڈیا) پاکستان میں جہاں عوام پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہو رہے ہیں، وہیں مقامی آئل ریفائنریز کے منافع میں 1000 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ سہ ماہی مالیاتی نتائج کے مطابق اٹک ریفائنری کا خالص منافع جولائی تا ستمبر 18.65 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1184 فیصد زیادہ ہے۔
نیشنل ریفائنری کا خالص منافع 11.57 ارب روپے جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا 13.97 ارب روپے رہا۔ پاکستان آئل فیلڈز اور اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی بالترتیب 8.19 ارب اور 6.64 ارب روپے کا منافع کمایا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی صورتِ حال قابو میں ہے اور خلیجی سپلائرز سے تیل کی فراہمی جاری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایندھن ذخیرہ کرنے سے گریز کریں۔
جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں ریلیف کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایک تکنیکی کمیٹی کے جائزہ اجلاس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مقامی ریفائنریز نے 86.22 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔ وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے مذاکرات کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کے کریک اسپریڈ کو کم کیا گیا ہے۔
سنرجیکو پاکستان کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا ہے کہ مقامی ریفائننگ انڈسٹری نے بحران کے دوران سپلائی بلا تعطل جاری رکھی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خام تیل کے اخراجات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے اور پیٹرولیم قیمتوں کے اضافے کے وقت نرخ بڑھانے والے شعبوں کو بھی ریلیف فراہم کرنے کی ترغیب دی جائے۔


