ہومتازہ ترینچین اور روس ہنگامہ خیز دنیا میں استحکام کی اہم قوت ہیں،...

چین اور روس ہنگامہ خیز دنیا میں استحکام کی اہم قوت ہیں، چینی وزیراعظم

سینٹ پیٹرزبرگ (شِنہوا) چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے کہا ہے کہ مسلسل بدلتی ہوئی اور پیچیدہ بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں چین اور روس نے قریبی رابطے برقرار رکھے ہیں اور دونوں ممالک ہنگامہ خیزی اور تبدیلیوں سے دوچار دنیا میں استحکام کی ایک اہم قوت ثابت ہو رہے ہیں۔

لی چھیانگ نے ان خیالات کا اظہار روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران کیا۔

لی چھیانگ نے سب سے پہلے چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے ولادیمیر پوتن کو پرخلوص سلام اور نیک تمنائیں پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک دونوں ممالک کے سربراہان 2 مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں اور ان ملاقاتوں میں چین اور روس کے تعلقات اور تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے نئے منصوبے طے کئے گئے ہیں۔

لی چھیانگ نے کہا کہ چین روس کے ساتھ مل کر تزویراتی رابطوں کو مضبوط بنانے، باہمی سیاسی اعتماد کو مستحکم کرنے، تمام شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود میں مسلسل اضافہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

لی چھیانگ نے کہا کہ چین روس کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی معیشتوں کی صلاحیتوں سے بہتر طور پر فائدہ اٹھانے، دوطرفہ تعاون کی مثبت رفتار برقرار رکھنے اور توانائی، قدرتی وسائل، تجارت، سرمایہ کاری، نقل و حمل اور دیگر شعبوں میں عملی تعاون مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے۔ اس کا مقصد مزید مثبت نتائج حاصل کرنا اور دونوں ممالک میں مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔

دوسری جانب ولادیمیر پوتن نے لی چھیانگ سے درخواست کی کہ وہ شی جن پھنگ کو ان کی جانب سے پرخلوص سلام پہنچائیں۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی 20 ویں مرکزی کمیٹی کے 5 ویں مکمل اجلاس کی کامیابی کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

پوتن نے کہا کہ رواں سال ان کی شی جن پھنگ سے کئی مرتبہ ملاقات ہو چکی ہے اور دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں روس اور چین کے مابین جامع تزویراتی شراکت داری پر مبنی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لئے اہم نئے اتفاق رائے حاصل کئے ہیں۔

پوتن کے مطابق 30 سال قبل روس اور چین کے وزرائے اعظم کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا نظام قائم کرنے کے بعد سے اس نظام نے دونوں ممالک کے سربراہان کی سفارت کاری کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج پر موثر عملدرآمد کیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا اور عملی بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات مساوات، باہمی احترام، مشترکہ مفاد، باہمی فائدے اور ایک دوسرے کے خدشات کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی صورت حال میں تبدیلیوں سے دوطرفہ تعلقات متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کی مداخلت ان تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں