ہومتازہ ترینچینی زبان تاجکستان کے نوجوانوں کے لئے نئی راہیں کھول رہی ہے

چینی زبان تاجکستان کے نوجوانوں کے لئے نئی راہیں کھول رہی ہے

دوشنبے (شِنہوا) ہاتھ میں برش تھامے 20 سالہ مریم طبارووا کاغذ پر چینی حروف کو توجہ اور باریکی سے تحریر کر رہی ہیں۔ ان کے گرد تاجک نیشنل یونیورسٹی (ٹی این یو) کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں 10 سے زائد دیگر طلبہ بھی خطاطی کی مشق کر رہے ہیں۔

طبارووا نے بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھی تو ٹیلی ویژن پر چین کی بہت سی فلمیں دیکھا کرتی تھی، اس سے ان کے دل میں چین سے متعلق ابتدائی دلچسپی پیدا ہوئی۔

ڈیڑھ سال قبل انہوں نے تاجک نیشنل یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا، وہاں وہ چینی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ وہ چینی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چینی ثقافت کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چینی ثقافت کے تمام پہلوؤں میں مجھے خطاطی سب سے زیادہ پسند ہے، اس کی مشق سے مجھ میں صبر اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔

طبارووا کے مطابق انسٹی ٹیوٹ باقاعدہ کلاسز کے علاوہ مختلف تقریبات اور مقابلے بھی منعقد کرتا ہے، ان سرگرمیوں سے ہم اپنی چینی زبان بہتر بنا سکتے اور چینی ثقافت کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے وہ گریجویشن کے بعد زبان کی تدریس کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی چینی زبان بہتر بنانے کے لئے چین جانا چاہتی ہوں، پھر تاجکستان واپس آ کر کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں تدریس کے فرائض انجام دینا چاہتی ہوں۔‘‘

تاجک نیشنل یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی شریک ڈائریکٹر سن جنگ نے بتایا کہ 2008 میں قیام کے بعد سے یہاں تقریباً 56 ہزار افراد چینی زبان سیکھ چکے ہیں اور یہ انسٹی ٹیوٹ ایک ہزار 400 سے زائد ثقافتی تقریبات منعقد کر چکا ہے، ان میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ہے۔ ان کے بعض سابق طلبہ اب اسی انسٹی ٹیوٹ میں استاد ہیں۔

ژاسمینا قلندرووا نے 2014 میں چینی زبان سیکھنا شروع کی تھی اور وہ اب تاجک نیشنل یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں بطور معلم میری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ میں وہ کام کر رہی ہوں جس سے مجھے واقعی محبت ہے۔ اس زبان کے ذریعے میں اپنے مزید طلبہ کو دنیا دیکھنے اور مختلف ثقافتوں سے روشناس ہونے میں مدد دے سکتی ہوں۔

قلندرووا نے کہا کہ چینی زبان ثقافتی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چینی زبان صرف وسطی ایشیا اور چین کو جوڑنے والا پل ہی نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کو جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور وسطی ایشیا کے درمیان مزید تعلیمی تعاون میں مقامی صنعت کی ضروریات کے مطابق باقاعدہ عملی اور مہارت پر مبنی تربیتی پروگرام شامل ہونے چاہئیں۔

قلندرووا نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نوجوانوں کو پیشہ ورانہ مہارتیں اور روزگار کے لئے ضروری قابلیت حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مارچ میں تاجک نیشنل یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ نے ایک ورکشاپ کا آغاز کیا جو مقامی نوجوانوں کو عملی مہارتوں کی مفت تربیت فراہم کرتی ہے، ان میں باریک مینا کاری اور تانبے کی ابھری ہوئی نقاشی شامل ہیں۔

یہ ثقافتی ورکشاپ سمیرا ہمروئیوا کے لئے بالخصوص انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئی جو تاجک نیشنل یونیورسٹی میں فائنل ایئر کی طالبہ ہیں اور دو سال سے زائد عرصے سے انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان سیکھ رہی ہیں۔

جب انہوں نے اپنے اساتذہ کو بتایا کہ وہ اپنے اس ہنر کو آمدنی کا ذریعہ بنانا چاہتی ہیں تو اساتذہ نے ان کی مکمل حوصلہ افزائی اور مدد کی۔

ہمروئیوا کا منصوبہ ہے کہ وہ ایسی مقامی کمپنیوں کے ساتھ کام کریں جو ان کی تیار کردہ مصنوعات باقاعدگی سے خریدیں۔

ہمروئیوا نے کہا کہ میں چین کی ٹیکنالوجی استعمال کر کے اپنی ثقافت کے عناصر پر مبنی مصنوعات تیار کرنا چاہتی ہوں تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہو سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں