نان چھانگ (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے ’’مٹی کے برتنوں کے دارالحکومت‘‘ کے نام سے معروف شہر جنگ دے ژین میں اتوار کے روز چائنہ جنگ دے ژین انٹرنیشنل سرامک ایکسپو 2026 کا آغاز ہوا جس میں ملکی اور غیر ملکی ایک ہزار سے زائد پیشہ ور خریدار شریک ہو رہے ہیں۔
پانچ روزہ نمائش میں سرامکس کی صنعت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں صنعت کے مکمل پیداواری سلسلے، ملکی و بین الاقوامی منڈیاں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہیں۔ نمائش کے لئے ایک لاکھ 40 ہزار مربع میٹر رقبہ مختص کیا گیا ہے۔
نمائش میں سپین، جرمنی اور جاپان سمیت 19 سے زائد ممالک کے نمائش کنندگان شریک ہوئے ہیں۔ نمائش میں تخلیقی ڈیزائن، سرامکس کی جدید اور ذہین تیاری، بین الاقوامی برانڈز اور سرامکس تیار کرنے والے شہروں کے لئے مخصوص زون قائم کئے گئے ہیں۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر جنگ دے ژین میں تیار کردہ علاقائی برانڈ کے لئے 2026 کے معیار اور شہر کے ڈیجیٹل ثقافتی و سیاحتی پلیٹ فارم کی رونمائی کی گئی۔
25 جولائی کو جنگ دے ژین کے ہاتھ سے بنے چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت سے وابستہ مقامات کو یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ اس طرح چینی مٹی کے برتنوں کے ثقافتی ورثے سے متعلق فہرست میں طویل عرصے سے موجود خلا پر ہو گیا اور یہ چین کا 61واں عالمی ورثہ مقام بن گیا۔
یہ تاریخی مقامات مٹی کے برتنوں کی دستکاری صنعت کے نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو 10 ویں سے 19 ویں صدی کے دوران جنگ دے ژین میں پھلا پھولا تھا۔
آج جنگ دے ژین کی سرامک کی صنعت سے ایک لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے اور تقسیم کا جامع نظام جو کبھی اس کی تاریخی کامیابی کی بنیاد تھا، بھی فروغ پا رہا ہے۔
2004 میں شروع ہونے والی اس ایکسپو نے نہ صرف اپنی بین الاقوامی رسائی کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ بتدریج نمائش و تجارت، ثقافتی تبادلے اور سرمایہ کاری کے تعاون کو یکجا کرنے والا ایک جامع پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔
16 لاکھ سے زائد آبادی کے حامل شہر جنگ دے ژین میں گزشتہ دہائی کے دوران ایک لاکھ 36 ہزار افراد کی خالص نقل مکانی ریکارڈ کی گئی۔ اس شہر میں طویل المدتی کاروبار شروع کرنے والوں میں سے نصف سے زائد کا تعلق صوبہ جیانگ شی کے باہر سے ہے جن میں غیر ملکیوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے۔


