واشنگٹن (لارڈ میڈیا): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامیوں نے نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات میں ممکنہ شکست کی صورت میں ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں میل اِن اور پوسٹل ووٹوں کے ذریعے دھاندلی کا خطرہ ہے۔
ایک آن لائن اجلاس میں ٹرمپ کے حامیوں نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا کہ میل اِن بیلٹ پر ووٹرز کے پتے تبدیل کر کے دھاندلی کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے بچپن کے دوست پیٹر ٹکٹن نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس جیت جاتے ہیں تو ٹرمپ کو ملک ان کے حوالے نہیں کرنا چاہیے اور شفافیت کی جانچ کے لیے مارشل لا نافذ کرنا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ایک اور رہنما نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتخابی عمل روکنے یا نیشنل ایمرجنسیز ایکٹ کے تحت ریاستوں کو انتخابی طریقہ کار بدلنے پر مجبور کرنے کی تجویز پیش کی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ووٹنگ نظام کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی وزارتِ انصاف نے تمام 50 ریاستوں کو خطوط ارسال کر دیے ہیں اور پولنگ والے دن تقریباً ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعینات کیے جائیں گے۔


