ہومتازہ ترینچین کے دشوار گزار دیہی علاقوں میں ڈرونز سے سامان کی ترسیل...

چین کے دشوار گزار دیہی علاقوں میں ڈرونز سے سامان کی ترسیل آسان ہو گئی

چین میں ڈرونز کے استعمال سے ترسیل کے شعبے میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے اور اب ان کی مدد سے ان دور دراز دیہی آبادیوں تک بھی سامان پہنچایا جا رہا ہے جہاں کبھی رسائی مشکل ہوا کرتی تھی۔

چین کے صوبے سیچھوان کے پہاڑی علاقوں میں ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے جہاں بل کھاتی سڑکیں سامان کی منزل تک ترسیل کو آخری مرحلے میں سست روی کا شکار کر دیتی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): بائی جی وین، زمینی آپریٹر، جے ڈی لاجسٹکس، چھوشیان کاؤنٹی، صوبہ سیچھوان
’’ہم اس وقت جو ڈرونز استعمال کر رہے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ 30 کلوگرام وزن اٹھا سکتے ہیں۔ ہر ڈرون روزانہ 10 سے زیادہ پروازیں کرتا ہے اور قریبی دیہات کے لوگوں کو آمد و رفت، دونوں سمتوں میں سامان کی ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈرون پارسل، روزمرہ ضرورت کی اشیا، زرعی سامان اور آلات دیہات تک پہنچاتے ہیں جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والی خصوصی زرعی مصنوعات وہاں سے دوسری جگہوں تک لے جاتے ہیں۔‘‘

ڈرونز دیہی آبادی کے لئےسہولت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار اور آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یو فینگ یِنگ، رہائشی، گاؤں فُولونگ، چھوشیان کاؤنٹی، صوبہ سیچھوان
’’شکرقندی کے نوڈلز اور مونگ پھلی جیسی ہماری مقامی مصنوعات اب پہلے سے زیادہ تیزی اور آسانی سے دوسری جگہوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اس سے ہم دیہات میں رہنے والوں کی زندگی واقعی آسان ہو گئی ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): چھیاؤ لِن، پراجیکٹ منیجر، جے ڈی لاجسٹکس، چھوشیان کاؤنٹی، صوبہ سیچھوان
’’ہم روزانہ باقاعدگی سے 100 سے زیادہ پارسل پہنچاتے ہیں۔ اس سے سامان کی ترسیل کی کارکردگی میں 80 فیصد سے زیادہ بہتری آئی ہے۔‘‘

چین کے صوبے سیچھوان نے مقررہ شرائط پر پورا اترنے والے منصوبوں کے لئے مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم بلندی پر فضائی ترسیل کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔

چین بھر میں اب 95 فیصد سے زیادہ انتظامی دیہات تک ایکسپریس ڈیلیوری کی سہولت دستیاب ہے۔ اس وجہ سے کسانوں کو اپنی پیداوار وسیع تر منڈیوں تک پہنچانے کے مواقع مل رہے ہیں۔

داژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں