نیبراسکا (لارڈ میڈیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسط مدتی انتخابی مہم کے دوران نیبراسکا میں دیے گئے بیانات نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ نے لاس اینجلس اور سان ڈیگو کی ممکنہ تباہی کا ذکر کیا جس پر وائٹ ہاؤس نے میڈیا کی تنقید کو حقیقت سے بعید قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک عظیم الشان فتح چاہتے ہیں اور جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافہ معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حملوں کی صورت میں امریکی شہروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ کو ذہنی طور پر بیمار قرار دیا، جبکہ لاس اینجلس کی میئر کیرن باس اور سان ڈیگو کے میئر ٹوڈ گلوریا نے بیانات کو عوامی سلامتی کے لیے نقصان دہ کہا۔
سان ڈیگو کے ریپبلکن امیدوار جم ڈیسمنڈ نے بھی ٹرمپ کے الفاظ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی امریکی شہر قربانی کا بکرا نہیں بن سکتا اور ہر شہری کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر مواصلات اسٹیون چیونگ نے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ کا مطلب ایٹمی ایران کی روک تھام کے حوالے سے تھا۔ وائٹ ہاؤس نے میڈیا کے ہنگامے کو حقیقت سے بعید قرار دیا ہے۔
صحافیوں کی جانب سے وضاحت طلب کرنے پر ٹرمپ نے سوال کو نظر انداز کیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں قیادت کی غیر یقینی صورتحال ہے۔
ایران نے امریکی صدر کے دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اصل مسئلہ امریکی حکام کے متضاد مواقف میں ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے مذاکرات جاری ہیں مگر ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی۔


