نیروبی (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت (یونیسکو) اور چین کے کوڈنگ سکھانے والے پلیٹ فارم کوڈماؤ کا مشترکہ انیشی ایٹو افریقہ بھر کے سکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو شامل کرنے کے حوالے سے پیش رفت کر رہا ہے۔
یونیسکو کے مشرقی افریقہ کے علاقائی دفتر کے قومی پروگرام کی میری نیاسیمی کے مطابق اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پورے براعظم میں تدریس اور سیکھنے کے عمل کو تبدیل کر رہی ہیں جس سے طلبہ کو مستقبل کے روزگار اور جدیدیت کے لئے ضروری مہارتیں حاصل ہو رہی ہیں۔
میری نیاسیمی نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں حالیہ اجلاس کے دوران کہا کہ ’’اے آئی کی تعلیم کو تیز کرنا ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے، انسانی وسائل کو مضبوط بنانے اور کینیا سمیت پورے افریقی براعظم کی عالمی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے۔‘‘
یونیسکو اور کوڈماؤ کی جانب سے 2021 میں نوجوانوں کے لئے شروع کئے گئے کوڈنگ کے اس انیشی ایٹو کا مقصد افریقہ اور ایشیا میں جامع، محفوظ اور مساوی اے آئی اور کوڈنگ کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
یہ پروگرام عملی تربیت فراہم کرنے، براعظموں کے درمیان تعلیمی نیٹ ورکس قائم کرنے اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
نیاسیمی نے کہا کہ ’’2021 سے 2022 کے درمیان جمہوریہ کانگو، کینیا، نمیبیا اور تھائی لینڈ کے 200 سے زائد اساتذہ نے یونیسکو کے ابتدائی بین الاقوامی کوڈنگ تربیتی پروگرام کو مکمل کیا جن میں 45 فیصد خواتین تھیں۔‘‘
نیاسیمی نے مزید کہا کہ یہ اقدام ’’ٹرین دی ٹرینر‘‘ ماڈل کے تحت کام کرتا ہے، جس کے ذریعے تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں اپنے ہزاروں ساتھی اساتذہ اور طلبہ تک منتقل کرتے ہیں۔
کینیا کی مشرقی کاؤنٹی مچا کوس کے ٹالا ٹاؤن شپ پرائمری سکول کے استاد آگسٹین نزوکی نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت حال ہی میں چین کے شہر شین زین کے دورے نے تدریس کے ان کے طریقہ کار کو کس طرح تبدیل کیا۔
کینیا میں 2025 سے اب تک کیامبو، نیروبی، کاجیادو اور مچا کوس کاؤنٹیز کے 20 سکولوں کو اس منصوبے میں شامل کیا جا چکا ہے۔
اب تک اس پروگرام کے تحت کینیا کے ایک ہزار 200 سے زائد طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے اور سکولوں میں باقاعدہ کوڈنگ کلب قائم کئے گئے ہیں تاکہ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان مسلسل باہم سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔


