ہومتازہ ترینچینی شراکت داری سے سپین میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت مضبوط

چینی شراکت داری سے سپین میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت مضبوط

میڈرڈ (شِنہوا) یورپ میں گاڑیاں بنانے والا دوسرا بڑا ملک ہونے کے ناطے سپین ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں تیار کرتا ہے لیکن اس کی آٹو موبائل صنعت سے متعلق بہت سے اہم فیصلے بیرون ملک کئے جاتے ہیں۔

جرمن کمپنی ووکس ویگن کی جانب سے 2030 کے بعد اپنے ہسپانوی برانڈ ایس ای اے ٹی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے امکان کے پیش نظر چین کی گوتیون ہائی ٹیک کے ساتھ بیٹریوں کے شعبے میں نئی شراکت داری سپین کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی ترسیلی نظام میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔

ووکس ویگن گروپ کے بیٹری یونٹ پاور کو اور گوتیون نے 28 ستمبر کو اعلان کیا کہ گوتیون مشرقی سپین کے شہر ساگنتو میں پاور کو کے بیٹری سیل پلانٹ میں 49 فیصد حصص خریدنے کے لئے تقریباً 1.1 ارب یورو (1.29 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کرے گی۔ پاور کو کے پاس 51 فیصد حصص برقرار رہیں گے۔ اس مشترکہ منصوبے کا انتظام دونوں کمپنیاں مل کر کریں گی اور پلانٹ میں 2027 سے کام شروع ہونے کی توقع ہے۔

ویلنشیا کی علاقائی حکومت کے دوسرے نائب صدر جوز ڈیز نے کہا کہ یہ شراکت داری صنعتی تجربے اور تکنیکی معلومات کو یکجا کرے گی جس سے منصوبے کو زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد ملے گی۔

سپین میں گاڑیوں کی تیاری کا ایک وسیع صنعتی نظام موجود ہے جس میں گاڑیاں تیار کرنے والے پلانٹس، پرزہ جات بنانے والی کمپنیاں اور سپلائرز کا نیٹ ورک شامل ہے۔ سپین کی سرکاری برآمدی و سرمایہ کاری ایجنسی آئی سی ای ایکس کے مطابق ملک میں 9 کثیر القومی گروپ گاڑیوں اور پرزہ جات کی تیاری کے 18 پلانٹس چلا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر آٹو موبائل صنعت ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 10 فیصد اور اشیاء کی برآمدات کا 16 فیصد حصہ ہے۔

تاہم اس صنعتی طاقت کا بڑا حصہ کثیر القومی کمپنیوں کے زیر انتظام ہے جس کے باعث سپین سرمایہ کاری اور پیداوار سے متعلق بیرون ملک فیصلوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔

سپین کے شہر بارسلونا کے زونا فرانکا میں سپین کی ایبرو-ای وی موٹرز اور چین کی چیری آٹوموبائل کے مشترکہ منصوبے ایبرو فیکٹری میں گاڑیوں کی پیداوار شروع ہونے کی تقریب کا منظر-(شِنہوا)

ایس ای اے ٹی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے اس کمزوری کو نمایاں کردیا ہے۔ ستمبر میں ووکس ویگن نے کہا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سخت قوانین، الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے اخراجات اور نئی نسل کی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لئے درکار سرمایہ کاری کے باعث اس برانڈ میں مزید سرمایہ کاری مشکل ہوتی جارہی ہے۔ 2030 کے بعد ووکس ویگن کے ممکنہ اقدامات میں ایس ای اے ٹی کو مرحلہ وار ختم کرنا بھی شامل ہے۔

اس اعلان کے بعد سپین میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ہسپانوی اخبار ایل پیس کے مطابق ایس ای اے ٹی کی براہ راست اور بالواسطہ معاشی سرگرمیوں کا حجم کاتالونیا کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 4 فیصد اور روزگار کا 3 فیصد ہے۔

ایس ای اے ٹی کی ورکس کونسل کے صدر اور اس وقت ووکس ویگن کے نگران بورڈ کے رکن ماتیاس کارنیرو نے خبردار کیا ہے کہ ایس ای اے ٹی کو محض "اسمبلی پلانٹ” بننے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کاتالان اخبار لا وانگارڈیا کو بتایا کہ ایس ای اے ٹی اب بھی گاڑیوں کے ڈیزائن، پیداوار اور فروخت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات پوری پیداواری نظام کی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی سے وہ عوامل بھی بدل رہے ہیں جو گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو مقابلے میں برتری دیتے ہیں۔

ای وائی سپین کے آٹو موبائل اور ٹرانسپورٹ شعبے کے ذمہ دار پارٹنر زیویئر فیرے نے مقامی اخبار لا وانگارڈیا کو بتایا کہ اب معاملہ صرف یہ نہیں رہا کہ بہتر گاڑی کون بناتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بیٹری، سافٹ ویئر، اخراجات اور جدت کی رفتار پر کس کا کنٹرول ہے۔

بیٹریاں اس تبدیلی کی ایک واضح مثال ہیں۔ ووکس ویگن کے مطابق یورپ میں اب بھی لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹریوں کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کی خاطر خواہ صلاحیت موجود نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کم قیمت والی عام استعمال کی الیکٹرک گاڑیوں میں تیزی سے استعمال ہورہی ہے۔ گوتیون کو ایل ایف پی ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

نئی شراکت داری کا مقصد سپین کے شہر ساگنتو کو ایل ایف پی ٹیکنالوجی پر مبنی یونیفائیڈ سیلز کی یورپی پیداوار کا مرکز بنانا ہے۔ اب پلانٹ کے پہلے مرحلے میں سالانہ 30 گیگا واٹ آوور تک بیٹری سیلز تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو پہلے زیر غور 20 گیگاواٹ آوور کی صلاحیت سے 50 فیصد زیادہ ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں