ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچین، کرغزستان اور ازبکستان ریلوے کے ذریعے ذاتی تعلق کا قیام

چین، کرغزستان اور ازبکستان ریلوے کے ذریعے ذاتی تعلق کا قیام

بشکیک (شِنہوا) 2024 کے اواخر میں چین، کرغزستان اور ازبکستان کو ملانے والے ریلوے منصوبے کے آغاز کے بعد سے چینی اور مقامی تعمیراتی کارکن شانہ بشانہ محنت کر رہے ہیں۔

تینوں ممالک کے رہنماؤں کی ذاتی سرپرستی میں شروع ہونے والا یہ ریلوے منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کا ایک اہم منصوبہ ہے جس نے چین اور وسطی ایشیا کے ماہرین اور کارکنوں کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان میں چینی انجینئر یانگ ڈونگ اور کرغز تعمیراتی کارکن ژول بول دو کورچوبائیف بھی شامل ہیں۔

یانگ ڈونگ کو ریلوے کی تعمیر کا 40 سال سے زائد کا تجربہ ہے۔ چین، کرغزستان، ازبکستان ریلوے منصوبے کے تکنیکی ڈائریکٹر کی حیثیت سے وہ کرغز تعمیراتی کارکنوں کی تربیت کی نگرانی کرتے ہیں۔ اسی دوران یانگ کی کرغزستان کے علاقے جلال آباد سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ کورچوبائیف سے دوستی ہوگئی۔

کورچوبائیف کے لئے چین، کرغزستان، ازبکستان ریلوے منصوبے پر کام کرنا زندگی بدل دینے والا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اس سے پہلے ایسی جدید ریلوے موجود نہیں تھی۔ میرے لئے اس منصوبے میں شامل ہونا صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور اپنے خواب کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔

نئے آلات اور ٹیکنالوجی سے مانوس ہونے سے پہلے کورچوبائیف نے کام چھوڑنے کا بھی سوچا تاہم یانگ نے ان کی مدد کی اور انہیں کام کا طریقہ سکھایا۔

مسلسل مشق کے ذریعے کورچوبائیف نے ضروری مہارتیں حاصل کرلیں۔ وہ سریے کی ویلڈنگ اور مختلف اقسام کے آلات چلانے میں ماہر ہوگئے جبکہ انہیں ریلوے کی تعمیر کے معیارات اور قواعد و ضوابط سے بھی اچھی طرح واقفیت ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ یانگ فراخ دلی سے اپنے تجربات ہمیں بتاتے ہیں اور ہم ایک عظیم منصوبے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ دوستی میرے لئے بہت قیمتی ہے۔

یانگ کو خاص طور پر اس بات پر فخر ہے کہ کورچوبائیف مختلف کام اب خود انجام دینے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کرغزستان میں کام کے ابتدائی دنوں میں انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یانگ نے کہا کہ ان میں سرد موسم اور زبان کا فرق بھی شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کورچوبائیف نے انہیں مقامی موسم سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دی اور مقامی روایات سے بھی آگاہ کیا۔ چینی انجینئر نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس بڑے منصوبے کے ذریعے مجھے ایک دوسرے ملک اور مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کرنا اور سیکھنے کا موقع ملا۔

ریلوے کے مستقبل کے حوالے سے یانگ نے کہا کہ اس منصوبے سے چین اور کرغزستان کے درمیان سفر آسان ہوگا، ریلوے کے راستے میں آنے والے دیہات اور قصبوں میں بنیادی شہری سہولتوں کو فروغ ملے گا اور تعلیم و صحت کی سہولیات میں بہتری آئے گی جس سے مقامی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔

کورچوبائیف کا خیال ہے کہ نئی ریلوے کرغزستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مال برداری زیادہ آسان ہوجائے گی جس سے خطے میں مزید کارخانے قائم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ نوجوانوں کے لئے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور بچے دنیا کے بارے میں جان سکیں گے۔

یانگ اور کورچوبائیف دونوں کے لئے چین، کرغزستان، ازبکستان ریلوے صرف ایک سفری اور تجارتی رابطہ نہیں بلکہ دوستی اور تعاون کا پل بھی ہے۔

یانگ نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے تک مل کر کام کرنے کے دوران ہمارے ممالک کے تعمیراتی کارکن اب ایک بڑے خاندان کی طرح بن گئے ہیں۔

کورچوبائیف نے کہا کہ مشترکہ کام کے دوران انہیں چینی عوام کی محنت اور خلوص کا حقیقی تجربہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس ریلوے نے ہمارے ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیا ہے اور یہ ریلوے ہمارے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرے گی جس سے دوستی کے پھول مزید کھلیں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں