ہومتازہ ترینامریکہ کی مغربی ساحلی بندرگاہوں کے لیے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات...

امریکہ کی مغربی ساحلی بندرگاہوں کے لیے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں

لاس اینجلس (شِنہوا) لانگ بیچ کی بندرگاہ پر تقریباً 55 فیصد حصہ چین کی تجارت کا ہے اور پڑوسی لاس اینجلس کی بندرگاہ پر کاروبار کا لگ بھگ 40 فیصد حصہ بھی اسی تجارت سے وابستہ ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مستحکم تعلقات امریکہ کی ان دو مصروف ترین کنٹینر بندرگاہوں کے لیے کوئی نظریاتی یا محض سفارتی تشویش کا معاملہ نہیں۔
دونوں بندرگاہوں کے سربراہان کے مطابق، تجارت کی یہ گہری باہمی وابستگی کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں تبدیلیاں تیزی سے جنوبی کیلیفورنیا بھر میں سامان کی ترسیل، ملازمتوں، صارفین کی سپلائی چینز اور سرمایہ کاری پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
لانگ بیچ کی بندرگاہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نوئل ہیسیگابا نے شِنہوا کو بتایا کہ امریکہ اور چین کے درمیان مستحکم اور تعمیری تعلقات عالمی معیشت، امریکی صارفین اور کاروباروں اور بین الاقوامی ترسیل کے نظام کے تسلسل کے لیے اہم ہیں۔
سان پیڈرو خلیج میں ساتھ ساتھ واقع یہ دونوں بندرگاہیں امریکہ کا سب سے بڑا کنٹینر گیٹ وے تشکیل دیتی ہیں اور گودی کے مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں، گوداموں، ریلوے، پرچون فروشوں اور برآمد کنندگان پر مشتمل ایک وسیع نقل و حمل کے نظام کو استحکام فراہم کرتی ہیں۔
ہیسیگابا نے بتایا کہ چین دہائیوں سے تجارتی مال کے حجم کے لحاظ سے لانگ بیچ کا سب سے بڑا شراکت دار رہا ہے اور اب اس بندرگاہ کی 55 فیصد درآمدات اور برآمدات چینی سامان پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے لانگ بیچ کو بحر الکاہل کی تجارتی راہداری میں ایک اہم رابطہ قرار دیا جو چینی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو امریکی صارفین، کاروباروں اور تقسیم کے نظام سے جوڑتا ہے جبکہ چین بھیجی جانے والی کیلیفورنیا کی اشیاء کے لیے ایک گیٹ وے کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی بندرگاہ لاس اینجلس پر ٹرک کنٹینرز لادے جانے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)

لاس اینجلس کی بندرگاہ پر بھی چین کے ساتھ تعلقات اتنے ہی گہرے ہیں۔ بندرگاہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جین سیروکا نے بتایا کہ چین اس کے کل کاروبار کا تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتا ہے جو اس کے دوسرے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے مقابلے میں اڑھائی گنا سے بھی زیادہ ہے۔

سیروکا نے کہا کہ لاس اینجلس کی بندرگاہ کے لیے چین ایک انتہائی اہم تجارتی شراکت دار بنا ہوا ہے اور چینی بندرگاہوں کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات نے ایسے تعاون کے دروازے کھولے ہیں جو تجارتی سامان کی نقل و حمل سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔

ہیسیگابا نے کہا کہ چین کے ساتھ تجارت دونوں بندرگاہوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک زیادہ مستحکم دوطرفہ تعلق تجارتی سامان کی ترسیل، روزگار کے مواقع اور صارفین تک رسد کے نظام کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا۔ چین کیلیفورنیا کی اشیاء کے لیے نمایاں برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

تجارتی سامان کے حجم کے علاوہ یہ بندرگاہیں ماحول دوست جہاز رانی، ڈیجیٹائزیشن اور ترسیل کے نظام کے استحکام کے شعبوں میں اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو وسعت دے رہی ہیں۔

سیروکا نے شنگھائی، گوانگ ژو کی بندرگاہوں کے علاوہ حال ہی میں شین زین کی بندرگاہ کے ساتھ ماحول دوست سمندری تجارتی راستے اور دیگر ایسے اقدامات پر کام کا حوالہ دیا جن کا مقصد کاربن کا اخراج کم کرنا اور عالمی تجارت زیادہ مئوثر اور لچکدار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا یہ بندرگاہوں کے درمیان شراکت داریاں اس بات کی اچھی مثال ہیں کہ عملی تعاون بحر الکاہل کے دونوں طرف کس طرح نتیجہ خیز فوائد فراہم کر سکتا ہے۔

لاس اینجلس کی بندرگاہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد بیس فٹ کے کنٹینرز کا انتظام سنبھالتی ہے جبکہ لانگ بیچ کی بندرگاہ نے 2025 میں ریکارڈ 99 لاکھ بیس فٹ کے مساوی کنٹینرز کا انتظام کیا، لہذا ان دونوں بندرگاہوں کا حجم وسیع تر معاشی مفادات کے لیے اہم ہے۔

ان بندرگاہوں نے مل کر 2025 میں امریکہ کی کنٹینروں کی بین الاقوامی آبی تجارت کا تقریباً 31 فیصد سنبھالا اور ملک بھر میں 24 لاکھ ملازمتوں کا حصہ ڈالا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں