ہانگ کانگ (شِنہوا) ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے(ایچ کے ایس اے آر ) کی حکومت کے سیکرٹری مالیات پال چھن نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ ہانگ کانگ کا تعاون فروغ پا رہا ہے اور اس میں خاطر خواہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ تعاون اب دو طرفہ سرمایہ اور افرادی قوت کے تبادلے سے آگے بڑھ کر جدت طرازی، ٹیکنالوجی اور صنعتی منصوبوں پر وسیع تر اشتراک اور ادارہ جاتی ترقی کے تجربات کے گہرے تبادلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
چھن نے اتوار کو اپنے بلاگ میں لکھا کہ 2026 کے پہلے 9مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ کا اوسط روزانہ کاروبار 272.9 ارب ہانگ کانگ ڈالر (تقریباً 34.77 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.4 فیصد زیادہ ہے۔ آئی پی او مارکیٹ بھی اتنی ہی سرگرم رہی جس میں 116 کمپنیوں نے ہانگ کانگ میں اندراج کرایا اور 388 ارب ہانگ کانگ ڈالر سے زائد سرمایہ کا حصول ممکن بنایا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے جو 2025 کی کل رقم سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ تاہم، امریکی طویل مدتی بانڈ کی پیداوار 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے ساتھ، عالمی معاشی امکانات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش نے حال ہی میں مقامی مارکیٹ کے اشاریوں پر اثر ڈالا ہے۔
چھن نے کہا اس طرح کے قلیل المدتی اتار چڑھاؤ کے باوجود عالمی اثاثوں اور ترسیلی نظام کی از سر نو تشکیل کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے سالانہ اجلاس کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے اپنے دورہ دوحہ کا احوال بیان کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سیاسی اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ وسیع تر تبادلے سے یہ ظاہر ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ ہانگ کانگ کا تعاون گہرا ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں عملی پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔
چھن نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں معاشی تنوع کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران ہانگ کانگ کے آئی پی اوز میں مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کی آمد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی سیاسی اور معاشی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے کاروبار بھی گوداموں اور نقل و حمل میں سرمایہ کاری کا زیادہ باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جو ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہانگ کانگ کو وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر نمایاں ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔


