ہومتازہ ترینشی اور ٹرمپ سربراہی اجلاس سے عالمی استحکام، ترقی میں نیا اعتماد...

شی اور ٹرمپ سربراہی اجلاس سے عالمی استحکام، ترقی میں نیا اعتماد پیدا ہوا، ماہرین

بیجنگ(شِنہوا)چینی صدر شی جن پھنگ نے بدھ سے جمعہ تک امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، اس دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا، اور دونوں رہنماؤں نے چین۔امریکہ تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی امن اور ترقی سے متعلق اہم امور پر اتفاق رائے حاصل کیا۔

اس دورے پر گہری نظر رکھنے والے مختلف ممالک کے مبصرین نے کہا کہ اس سے اس اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کہ احترام، انصاف اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعمیری چین۔امریکہ تعلقات اور اسٹریٹجک استحکام کے قیام کے تصور کو ایک ہی سمت میں کیے جانے والے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے دونوں ممالک کے عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔

امریکی اسکالر رابرٹ لارنس کوہن نے کہا کہ شی اور ٹرمپ سربراہی اجلاس کی نمایاں کامیابی یہ ہے کہ اس سے ایک مضبوط اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کے دو بڑے ممالک کے رہنما، مسابقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم آہنگی اور اچھے جذبے کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں۔

کوہن نے کہا، "ایک مستحکم، تعمیری چین۔امریکہ تعلق اب ایک عالمی بھلائی ہے، جو بین الاقوامی امن اور اقتصادی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔”

اپنے دورے کے دوران شی نے نشاندہی کی کہ "تھوسی ڈائڈیز ٹریپ پر قابو پایا جا سکتا ہے” اور "چینی قوم کی عظیم تجدید حاصل کرنا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔”

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے لی کوان یو اسکول آف پبلک پالیسی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گو چھنگ یانگ نے کہا کہ یہ چین کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت چین۔امریکہ تعلقات کو دونوں ممالک اور پوری دنیا کی ترقی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ اسے زیرو-سم کھیل کے طور پر دیکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ چینی ثقافت کی تعاون پر مبنی منطق کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران شی نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایسے تعلقات کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہو، مسابقت معتدل ہو، اختلافات قابل انتظام ہوں اور امن کے وعدے موجود ہوں۔

کینیا میں مقیم بین الاقوامی تعلقات کے اسکالر کاونس ایڈہیرے نے کہا کہ عالمی ترقی کے لیے چین-امریکہ کے مضبوط تعاون کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ اس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں میں پیش گوئی کے قابل صورتحال بحال ہوگی، تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گنجائش پیدا ہوگی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں