ہوماہم ترینیمن کے حوثی رہنما نے سعودی عرب کا ساتھ دینے پر ترکیہ...

یمن کے حوثی رہنما نے سعودی عرب کا ساتھ دینے پر ترکیہ اور پاکستان کو خبردار کر دیا

صنعا (شِنہوا) یمن کے حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے ترکیہ اور پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ گروپ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ملوث ہونے پر خبردار کیا ہے۔

حوثیوں کے زیر انتظام ٹی وی چینل المسیرہ پر نشر ہونے والی تقریر میں عبدالمالک الحوثی نے الزام عائد کیا کہ یمن کے اندر اور سعودی-یمنی سرحد پر تنازع شدت اختیار کرنے کے باعث سعودی عرب ترکیہ اور پاکستان سے فوجی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ریاض کے ساتھ سیاسی یا اقتصادی مفادات کے حصول کی خاطر اس تنازع میں "الجھنے” سے گریز کریں۔

عبدالمالک الحوثی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سعودی عرب شام سے جنگجوؤں کو تنازع میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

کشیدگی کم کرنے کے امکان کے حوالے سے حوثی رہنما نے کہا کہ ان کا گروپ "ناممکن شرائط” کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ انہوں نے سعودی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور حوثیوں کے بقول عائد ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے کو دہرایا۔

انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ متحرک رہیں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران گروپ کی فوجی اور سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے رہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے آرپار حوثی-سعودی کشیدگی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر دور تک میزائل اور ڈرون حملے کئے جا رہے ہیں۔ عبدالمالک الحوثی نے پیر کو کہا تھا کہ حالیہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب یمن میں 760 فضائی حملے کر چکا ہے۔

عبدالمالک الحوثی کے بیان پر سعودی عرب، ترکیہ یا پاکستان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تینوں ممالک نے 7 اگست کو سعودی شہر مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے گزشتہ ہفتہ کے روز کہا تھا کہ ترکیہ اس معاہدے کے تحت اپنے وعدے پر قائم رہے گا اور سعودی عرب کو تکنیکی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں