قاہرہ (شِنہوا) مصر کے وزیر آبی وسائل و آبپاشی ہانی سیویلام نے کہا ہے کہ آبی انتظام کے شعبے میں چین کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران شِنہوا کے سوال کے جواب میں سیویلام نے کہا کہ چین کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور وسیع تجربہ موجود ہے جو مصر میں آبی انتظام کو جدید بنانے کی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے پاس تعاون کے لئے بہت کچھ موجود ہے اور دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے تعاون کی حمایت اس شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سیویلام نے بتایا کہ ایک چینی وفد اکتوبر میں ہونے والے قاہرہ واٹر ویک میں شرکت کرے گا جبکہ مصر نے آبی امور پر بات چیت اور تعاون کے لئے مختلف رابطے شروع کر دیئے ہیں۔
مصر دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے۔ سیویلام کے مطابق مصر کے قابل تجدید آبی وسائل کا 98 فیصد سے زیادہ حصہ ملک کی سرحدوں سے باہر سے آنے والے پانی سے منسلک ہے۔
وزیر نے کہا کہ مصر پانی کے استعمال کو زیادہ موثر بنانے کی کوششوں کے تحت آبی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ پر کام کر رہا ہے۔


