یانگون کے میات تاو وِن انٹرنیشنل اسکول کی 17 سالہ طالبہ ہان نی او کے لیے چینی خلائی دستاویزی فلم دیکھنا محض فلم دیکھنے کا تجربہ نہیں تھا۔ اس سے ان کے اندر یہ یقین پیدا ہوا کہ ایک دن میانمار بھی خلا تک پہنچ سکتا ہے۔
اتوار کو یانگون کے نیشنل تھیٹر میں "ہفتہ وار سنیما، مشترکہ کہانیاں” فلمی نمائش کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ہے۔ اس موقع پر چین کی پہلی خلائی دستاویزی فلم "شن ژو 13” دکھائی گئی ہے۔
فلم دیکھنے کے بعد ہان نی او نے کہا ہے کہ وہ خلائی تحقیق میں چین کی کامیابیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "چین نے بہت ترقی کی ہے۔ ہم بھی چین کی طرح خلا میں جانے کی کوشش کریں گے۔”
"شن ژو 13” میں شن ژو 13 مشن کی روداد بیان کی گئی ہے۔ اس میں چین کے خلائی اسٹیشن پر پہلی بار چھ ماہ تک انسانوں کی موجودگی اور ایک چینی خاتون خلا باز کی پہلی خلائی چہل قدمی کو دکھایا گیا ہے۔
ہان نی او، ان طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں میں شامل ہیں جو چینی فلموں کی نمائش کی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے یانگون میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ سرگرمیاں یانگون میں چینی ثقافتی مرکز، چائنا میڈیا گروپ اور میانمار ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن نے مشترکہ طور پر منعقد کی ہیں۔
تقریب میں حکومتی نمائندوں، عہدیداروں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی ہے۔ فلموں اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے عوامی روابط اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (برمی): ما کھن تھاندر وِن، یانگون منگ ڈے چینی اسکول کی استاد
"اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو چینی ثقافت کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اگر کوئی بچہ اس میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ اس بارے میں مزید جان سکتا ہے اور سیکھ سکتا ہے۔ فلمیں دیکھنے کے بعد چینی زبان سیکھنے سے انہیں بول چال اور روزمرہ کے الفاظ بھی تیزی سے سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسی فلموں کے ذریعے ہم چینی ثقافت کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ چین نے اپنی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کرنے کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے اور ثقافت سے متعلق بہت سی ویڈیوز اور فلمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔”
خلائی دستاویزی فلم نے نیشنل مینجمنٹ ڈگری کالج میں صحافت کی طالبہ سو میات نو کو بھی متاثر کیا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئی ہیں۔
"شن ژو 13” دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ فلم نے انہیں نئی تحریک دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "یہ فلم خلا کے بارے میں ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد مجھے حوصلہ ملا کہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔”
تاہم، سو میات نو کے لیے اس تقریب کی اہمیت محض فلم دیکھنے تک محدود نہیں تھی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (برمی): سو میات نو، نیشنل مینجمنٹ ڈگری کالج کی طالبہ
"آج کی تقریب میں بنیادی توجہ خلائی تحقیق پر تھی اور مجھے یہ بہت دلچسپ لگی ہے۔ اس نے ہمیں خاص طور پر میانمار کے لیے بہت حوصلہ دیا ہے۔ اس سے ہمیں یہ پیغام ملا ہے کہ اگر ہم اپنے خواب پورے کرنے کی ہمت کریں تو مستقبل میں یہی خواب ایک بڑی کامیابی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ چاہے میانمار میں اس کی شروعات بہت چھوٹے پیمانے سے ہی کیوں نہ ہو۔ میانمار میں لوگ تیزی سے چینی زبان سیکھ رہے ہیں لیکن زبان سیکھنے کا مقصد صرف زبان کا مطالعہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب ہم چینی ثقافت کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں تو ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہماری اپنی ثقافت بھی بہت مالا مال ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ دنیا بھر کے لوگ اس کے بارے میں جان سکیں۔”
یانگون، میانمار سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ۔


