ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کی وزارت دفاع نے 2026 کا دفاعی وائٹ پیپر جاری کر دیا، جس میں "جنگ کے نئے طریقوں” اور "دفاعی پیداوار و ٹیکنالوجی کی بنیادوں” پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جبکہ علاقائی سلامتی کے ماحول کو بدستور "مزید سنگین” قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیا وائٹ پیپر وزیراعظم سنائی تاکائیچی کی حکومت کی تزویراتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے، جس میں آپریشنل نظام میں تبدیلی اور دفاعی صنعت کو وسعت دینے جیسے اقدامات کے ذریعے مسلسل فوجی توسیع کا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جاپان کے جنگ کے بعد قائم نظام سے مزید آزاد ہونے اور ملک کو "فوجی ریاست” بنانے کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کے ایک خطرناک اقدام کی نشاندہی کرتا ہے۔
تقریباً 600 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کئی اہم ساختی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ پہلی بار اس میں "جنگ کے نئے طریقوں کے رجحانات” کے نام سے ایک الگ باب شامل کیا گیا ہے، جس میں روس۔یوکرین تنازع سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے بغیر پائلٹ نظاموں اور مصنوعی ذہانت کے وسیع تر استعمال، طویل عرصے تک مسلسل فوجی کارروائیوں کے لئے مضبوط صلاحیتوں اور دفاعی منصوبہ بندی کو خلائی شعبے، سائبر سپیس اور برقی مقناطیسی دائرے سمیت نئے شعبوں تک توسیع دینے کی حمایت کی گئی ہے۔
وائٹ پیپر میں جاپان کی دفاعی پیداوار اور تکنیکی بنیادوں کو مضبوط بنانے سے متعلق بحث کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے اور اس موضوع کو ایک الگ حصے کی حیثیت دی گئی ہے۔ اس میں دفاعی صنعت کی ترقی کو "اقتصادی ترقی کے محرک” اور "شہری شعبے کو فائدہ پہنچانے والی تکنیکی جدت کے فروغ” کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دلائل کا مقصد غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ہتھیاروں کی تیاری میں توسیع، مہلک فوجی سازوسامان کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور شہری و فوجی ٹیکنالوجیز کے درمیان فرق کو دھندلا دینے جیسے خطرناک رجحانات کو جائز قرار دینا ہے۔

جاپان کے شہر ٹوکیو میں لوگ قومی پارلیمنٹ کے سامنے ایک احتجاجی ریلی میں پلے کارڈز اٹھائے شریک ہیں۔(شِنہوا)
گزشتہ ادوار کی طرح اس سال کے وائٹ پیپر میں بھی "بیرونی خطرات” کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، گروہی محاذ آرائی کو ہوا دی گئی ہے اور "یکساں سوچ رکھنے والے ممالک” کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
چین کی لیاؤننگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف جاپان سٹڈیز کے وزیٹنگ ریسرچ فیلو چھن یانگ نے کہا کہ یہ دستاویز تاکائیچی کی حکومت کے تحت جاری ہونے والا پہلا دفاعی وائٹ پیپر ہے، جس پر "تاکائیچی کی واضح چھاپ” نظر آتی ہے۔ اس کے مندرجات ان فوجی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے انتہائی مطابقت رکھتے ہیں جنہیں انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد فروغ دیا ہے۔
ان پالیسیوں میں 2026 کا دفاعی بجٹ بھی شامل ہے، جس میں بغیر پائلٹ نظاموں، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور برقی مقناطیسی دفاعی نگرانی کے لئے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں، جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی مدد سے جنگی صلاحیتوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔


