بیجنگ (شِنہوا) چین نے ڈاک کی صنعت کے لئے اپنا 15 واں پانچ سالہ منصوبہ جاری کر دیا جس میں خدمات کی بہتری، تقسیم اور نقل و حمل کے جدید سلسلے کی ترقی تیز کرنے سمیت 10 اہم اہداف کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
ریاستی ڈاک بیورو اور کئی دیگر سرکاری اداروں کے مشترکہ طور پر جاری کردہ اس منصوبے میں 2030 کے لئے مخصوص اور واضح اعداد و شمار پر مبنی اہداف بھی مقرر کئے گئے ہیں۔
2030 میں ڈاک کی صنعت کی مجموعی کاروباری آمدن 24 کھرب یوآن (تقریباً 353.47 ارب امریکی ڈالر) اور مجموعی ترسیلات کی تعداد 290 ارب اشیاء تک پہنچنے کی توقع ہے۔ صرف ایکسپریس ترسیل کی مد میں 270 ارب پارسلوں سے 20 کھرب یوآن آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ اہداف شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق ختم کرنے کی بھرپور کوششوں کے عکاس ہیں جن کے تحت 2030 تک 90 فیصد انتظامی دیہات تک ہفتے میں کم از کم پانچ بار ڈاک پہنچائی جائے گی۔
اس منصوبے میں خدمات کی کارکردگی کے حوالے سے اہم علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر بروقت ترسیل کی شرح 88 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے وسیع تر اہداف کے پیش نظر منصوبے میں 2030 تک ایکسپریس ترسیلی کمپنیوں کے لئے 80 فیصد پیکنگ ماحولیاتی معیارات کے مطابق استعمال کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق اگلے پانچ برسوں کے دوران چین ڈاک کے شعبے میں نقصان دہ اور بلاوجہ کی مسابقت روکنے، جدت کے فروغ اور خدمات کا معیار بہتر بنانے کی کوششوں کو تیز کرے گا تاکہ خدمات کو متنوع اور عوام کے لئے مزید آسان بنایا جا سکے۔
اس منصوبے میں 2035 کے لئے ایک طویل المدتی وژن بھی پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی رسائی اور مضبوط بین الاقوامی مسابقتی صلاحیت رکھنے والی مزید عالمی معیار کی لاجسٹکس کمپنیاں قائم کرنا ہے۔ توقع ہے کہ اس شعبے کے حجم اور معیار دونوں میں نمایاں بہتری آئے گی اور معاشی و سماجی ترقی میں اس کا کردار مزید نمایاں ہو جائے گا۔


