اسلام آباد (لارڈ میڈیا): حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کی مد میں 1478 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی، جس سے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔ حکومت نے مالی سال 26-2025 کے پہلے 11 ماہ میں وفاقی بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک محدود رکھا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت صوبوں نے 13.1 کھرب روپے کا سرپلس ریونیو پیدا کیا، جس سے مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک کم ہوگیا۔ پورے مالی سال کے لیے حکومت نے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3 فیصد یا 37.7 کھرب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔
وزارت خزانہ نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مکمل مالیاتی آپریشنز کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم ابتدائی 11 ماہ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے غیر ٹیکس آمدنی کی بڑی مدات سے 48.2 کھرب روپے حاصل کیے۔
پہلے 11 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک کے منافع سے 24 کھرب 28 ارب روپے، پیٹرولیم لیوی سے 14 کھرب 32 ارب روپے، اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے 45 ارب 96 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول ہوئے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 112 کھرب 28 ارب روپے رہیں۔


