نیویارک (لارڈ میڈیا): سائنسدانوں کی نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مستقبل میں انسانی بچوں کی جینیاتی بیماریوں کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال سے پہلے ابھی کئی اہم سائنسی اور اخلاقی مسائل حل ہونا باقی ہیں۔
انسان نے ہمیشہ وقت کی رفتار اور تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اب میڈیکل سائنس نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جس نے انسان کو زندگی کی تخلیق کے بنیادی اسکرپٹ یعنی ڈی این اے کا ایڈیٹر بنا دیا ہے۔
سی این این کی ایک حالیہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں نے لیبارٹری میں انسانی جنین کے اندر موجود جینیاتی نقائص کو اتنی باریکی اور درستی سے ٹھیک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس نئی پیش رفت نے جہاں لاعلاج موروثی بیماریوں کے خاتمے کی نئی امیدیں جگا دی ہیں، وہیں دنیا بھر میں اخلاقی اور قانونی بحث کا ایک نیا طوفان بھی کھڑا کر دیا ہے۔
اس سائنسی معجزے کے پیچھے ‘بیس ایڈیٹنگ’ نامی ایک نئی اور انتہائی حساس ٹیکنالوجی ہے، جسے ڈی این اے کے لیے ‘ورڈ پروسیسر’ یا کٹ اینڈ پیس ٹول کہا جا رہا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیٹرک ایگلی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی طریقہ کار (آئی وی ایف) کے ذریعے عطیہ کیے گئے ابتدائی انسانی جنین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ڈی این اے کی پٹڑی پر موجود انفرادی کیمیکلز کو، جو اندھے پن، دل کے عارضے یا خون کی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، پیدائش سے پہلے ہی جنین کی سطح پر بدل کر بالکل درست کر دیا۔
تاہم، اس چمکتے ہوئے سائنسی رخ کا ایک تاریک اور خوفناک پہلو بھی ہے جس نے اخلاقی ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسان اب ‘خدا’ بننے کی کوشش کر رہا ہے؟
فی الوقت دنیا کے تقریباً 70 سے زائد ممالک میں اس تبدیل شدہ جنین کو کسی خاتون کے رحم میں منتقل کر کے بچہ پیدا کرنے پر سخت قانونی پابندی ہے۔ خود اس تحقیق میں شامل سائنسدان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی کلینکل استعمال یعنی بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔


