ہومتازہ ترینورلڈ بینک نے چین کی اقتصادی نمو بدستور مضبوط اور مستحکم قرار...

ورلڈ بینک نے چین کی اقتصادی نمو بدستور مضبوط اور مستحکم قرار دے دی

بیجنگ (شِنہوا) ورلڈ بینک نے منگل کے روز بیجنگ میں اپنی تازہ ترین "چائنہ اکنامک اپ ڈیٹ” رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسد و طلب میں عدم توازن اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باوجود چین کی اقتصادی نمو بدستور مضبوط اور مستحکم رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے آغاز میں چین کی معیشت کو ہائی ٹیک شعبے میں مضبوط سرمایہ کاری اور برآمدات سے سہارا ملا۔ دوسری سہ ماہی میں حکومتی پالیسیوں کی معاونت، ہائی ٹیک سرمایہ کاری اور عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت نے اندرونی طلب میں آنے والی کمزوری کے اثرات کو جزوی طور پر متوازن کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اقتصادی منظرنامے سے متعلق خطرات متوازن ہیں تاہم عالمی توانائی کی فراہمی اور خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
چین، منگولیا اور کوریا کے لئے ورلڈ بینک کی ڈویژن ڈائریکٹر تاتیانا روزیٹو نے کہا کہ "سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا کھپت میں اضافے کے لئے ایک اہم اقدام ہوگا۔ مراعات کی سطح میں اضافہ، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں تک اس کا دائرہ کار وسیع کرنا اور رہائش کی بنیاد پر سہولیات تک رسائی فراہم کرنا خاندانوں کو زیادہ بچت کے بجائے زیادہ خرچ کرنے کا اعتماد دے سکتا ہے۔”
اس تازہ ترین رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں ماحول دوست تکنیکی مہارتوں اور منتقل ہونے والی صلاحیتوں جیسے کہ نظامی سوچ، بدلتے حالات کے مطابق سیکھنا اور ڈیجیٹل مہارتوں کی طلب محض کم کاربن والے شعبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ دیگر شعبوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ان مہارتوں کے حامل افراد کو نسبتاً زیادہ اجرت بھی مل رہی ہے۔
چین کے لئے ورلڈ بینک کی سربراہ ماہر معاشیات ایلیتزا میلیوا نے کہا کہ کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیشہ ورانہ تربیت، ماحول دوست مہارتوں کی قابل منتقلی اسناد اور زیادہ مضبوط سماجی تحفظ کا نظام اس منتقلی کو مزید ہموار اور زیادہ جامع بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں