نائجر (لارڈ میڈیا): نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف نئے اور سخت قوانین نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم سولہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران بھی شامل ہیں۔
عدالتی عہدیدار کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، اور اب ان مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔ نئے قانون کے تحت ہم جنس پرستی یا ہم جنس تعلقات قائم کرنے پر پانچ سے دس سال قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ہم جنس شادی کرنے والوں کو دس سے بیس سال قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ نائجر کی حکومت کے ترجمان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


