اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے ٹیکس چوری کی غلط معلومات پر چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے نکال دیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو کر رہے تھے جس میں تمباکو، ٹیکس چوری اور سگریٹ اسمگلنگ کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزارت اطلاعات سے تمباکو کے اشتہارات کی تفصیلات اور سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے ٹیکس کی معلومات طلب کی گئیں۔
چیف آپریشنز ایف بی آر کی جانب سے غلط معلومات فراہم کرنے پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انہیں اجلاس سے باہر جانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات دینے والے افسران کو اہم عہدوں سے ہٹایا جائے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف بی آر کو کمیٹی میں طلب کرنے پر انہیں نوٹس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کی اپیل ہے کہ وزیراعظم مخصوص افسران سے نجات دلائیں۔
اجلاس میں 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ چوری کیس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور کیس پشاور منتقل کیا جائے گا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ بادشاہ خان وزیر کے خلاف کیسز پر دوبارہ کارروائی کریں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کی فیکٹریوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور ایف بی آر نے بریفنگ پیپرز میں کوئی معلومات نہیں دی۔


