واشنگٹن (شِنہوا) امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے فی الحال ایک دوسرے پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کے حل کے لئے منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں فریق فی الحال کشیدگی میں کمی لائیں گے اور جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت جاری رکھ سکیں گے جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔
منگل کے یہ مذاکرات ابتدا میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے اور ان کا محور ایران کے جوہری پروگرام پر تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی کے باعث بات چیت کو دوحہ منتقل کر دیا گیا اور اب توجہ اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی سلامتی پر مرکوز ہوگی۔
ایک ہفتہ قبل سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی وفد اور ایران کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو مربوط رکھنے کے لئے امریکی فوج اور ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے درمیان ایک "ہاٹ لائن” قائم کی جائے گی۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ہفتے تک یہ ہاٹ لائن ابھی تک فعال نہیں ہو سکی تھی۔
امریکہ نے جمعہ اور ہفتہ کو آبنائے ہرمز میں "تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت” کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی اہداف پر حملے کئے، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔


