کراچی (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے جاری اخراجات میں صرف 7.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری اخراجات کی شرح بالترتیب 9.7 فیصد، 17.3 فیصد اور 17 فیصد بڑھی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کا 1,263 ارب روپے کا بڑا حصہ تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف ہوتا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری اپناتے ہوئے 62 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی ہے اور وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس سمیت دیگر محکموں کے اخراجات کو بھی کم کیا گیا ہے۔
انہوں نے مستقبل کے لیے 720 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش کیا، جس میں کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے 64 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے اور آئندہ سال 1,800 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کو گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے چار منصوبوں کو اقوام متحدہ نے سراہا ہے اور اسی ماڈل کے تحت کیٹی بندر کو جدید بندرگاہ و اقتصادی مرکز بنانے پر کام جاری ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، جہاں تنازعات کے حل، اسلامی فنانس اور فن ٹیک سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ گرین انرجی نیٹ ورک اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے بھی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت سندھ ایگریکلچرل کلیکٹو ایکٹ متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت 50 ایکڑ سے کم اراضی رکھنے والے کاشتکاروں کو ایک گروپ کی صورت میں بڑے زرعی قرضوں کے حصول کے قابل بنایا جائے گا۔


