واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی سپریم کورٹ نے چرس استعمال کرنے والے افراد کو اسلحہ رکھنے کی جزوی اجازت دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندی کو محدود کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ کسی بھی شخص کو محض چرس استعمال کرنے کی بنیاد پر اسلحہ رکھنے سے نہیں روکا جا سکتا جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
عدالت کے اس فیصلے سے وفاقی قانون کی تشریح محدود ہوگئی ہے، جس کے تحت ممنوعہ منشیات کے غیر قانونی استعمال کنندگان کے لیے اسلحہ رکھنا جرم تھا اور ان پر پندرہ سال تک قید کی سزا عائد کی جاسکتی تھی۔
یہ مقدمہ ٹیکساس کے رہائشی علی ہیمانی نے دائر کیا تھا، جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ماریجوانا استعمال کرتے ہیں اور ان کے گھر میں نائن ایم ایم پستول موجود تھی۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے خلاف فرد جرم کو غیر آئینی قرار دیا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منشیات استعمال کرنے والوں کو بلاشرط اسلحہ رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ منشیات کے عادی افراد پر اسلحہ رکھنے کی پابندی برقرار رہے گی۔
امریکہ کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا قانونی حیثیت رکھتی ہے، تاہم وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات میں شامل ہے۔


