واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا نے آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے وہی طریقہ اپنایا جو ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ یہ انکشاف خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے خفیہ Ship-to-Ship تیل منتقلیوں کے نیٹ ورک کا قیام کیا، جہاں آبنائے ہرمز کے قریب چھوٹے ٹینکر تیل لے کر مخصوص مقامات تک پہنچتے اور بڑے بحری جہازوں میں منتقل کرتے تھے۔ یہ تکنیک ایران کی جانب سے پابندیوں کے دوران استعمال کرنے والے طریقوں سے مشابہت رکھتی ہے۔
یہ آپریشن مئی 2026 کے اوائل میں شروع ہوا اور اس میں کم از کم 92 بحری جہاز شامل رہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلا کہ متحدہ عرب امارات کے ساحلِ فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب خفیہ مراکز بنائے گئے تھے۔
بعض جہازوں نے اپنی شناختی ٹرانسپونڈر سسٹمز بند رکھے اور رات کے وقت محدود روشنی میں سفر کیا، جو ایرانی "شیڈو فلیٹ” کے حربے سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی فوج نے ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور دیگر نگرانی کے ذرائع استعمال کرکے ان قافلوں کی رہنمائی کی۔
ذرائع کے مطابق اس طریقے سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے بحران کو کم کیا جا سکے۔
چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران تیل چوری کر رہے تھے تاہم ایران کو بعد میں معلوم ہوا۔


