ہومانٹرنیشنلآکلینڈ میں چین اور نیوزی لینڈ کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون...

آکلینڈ میں چین اور نیوزی لینڈ کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کے مواقع پیش

آکلینڈ، نیوزی لینڈ (شِنہوا) نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں چین اور نیوزی لینڈ کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کے متعدد مواقع پیش کئے گئے، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری نمائندوں اور برادری رہنماؤں نے شرکت کی۔

تقریب میں ویڈیو پریزنٹیشنز دی گئیں اور مختلف کمپنیوں کی شرکت کے منصوبے متعارف کرائے گئے، جن میں 140ویں چین درآمدات وبرآمدات نمائش (کینٹن میلہ)، درمیانے اور چھوٹے کاروبار کے متعلق چین کے 21 ویں بین الاقوامی میلے، نیوزی لینڈ چین پیداواری نمائش 2026 اور گوانگ ڈونگ کموڈٹیز جنوبی بحرالکاہل جزائر (فجی) نمائش شامل تھیں۔

آکلینڈ میں چینی قونصل خانے کے اقتصادی و تجارتی دفتر کے ڈائریکٹر وانگ چھینگ گوانگ نے کہا کہ چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن نے نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کے لئے وسیع تعاون کے مواقع پیدا کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کے لئے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ میں چینی کاروباری ادارے ملک کی معاشی و سماجی ترقی اور دوطرفہ دوستانہ تعاون میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

آکلینڈ کی نارتھ ہاربر بزنس ایسوسی ایشن کے جنرل منیجر کیون او لیری اور نیوزی لینڈ چین دوستی سوسائٹی کے قومی صدر بریٹ او رائلی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تبادلوں میں شرکت اور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

نیوزی لینڈ چین تجارتی ایسوسی ایشن کے چیئرمین جان کوچرین نے شِنہوا کو بتایا کہ یہ تنظیم 1981 میں قائم ہوئی تھی اور اس کی تاریخ 1957 میں کینٹن فیئر میں شرکت کرنے والے نیوزی لینڈ کے تجارتی رہنما وکٹر پرسیول کی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں یہ تنظیم بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے ان درآمد کنندگان کی معاونت کرتی تھی جو چینی مارکیٹ میں تجارت کرتے تھے، تاہم اب یہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کی حمایت کرتی ہے اور ساتھ ہی چینی کمپنیوں کو نیوزی لینڈ کی منڈی تک رسائی میں مدد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تشہیری تقریب چین اور نیوزی لینڈ کے درمیان باہمی فائدہ مند دوستی کو آگے بڑھانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں