مظفرآباد (لارڈ میڈیا): آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست قرار دیا۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے آئین کے آرٹیکل 46 اے کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا، جس پر عدالت نے مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت کی توثیق کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ مہاجر نشستوں کی تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین سے جڑی ہے اور ان میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کو عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقۂ کار سے مشروط کیا اور کہا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ احتجاج یا سیاسی تنازع انتخابات میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
آئینی ماہرین نے عدالتی رائے کو حکومت کے مؤقف کی تقویت قرار دیا اور کہا کہ آئینی مسائل کا حل صرف آئینی طریقۂ کار سے ممکن ہے۔ عدالتی رائے نے انتخابات میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے۔


