تہران (لارڈ میڈیا): ایران کی پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایرانی اجازت کے تحت اوسطاً 15 لاکھ سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصول کی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم نیویگیشن اور ماحولیاتی تحفظ کی خدمات کے اخراجات کے طور پر لی جاتی ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کی بجٹ اور منصوبہ بندی کمیٹی کے رکن محسن زنگنہ نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے اوسطاً 15 لاکھ سے 20 لاکھ ڈالر تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی کا حق حاصل ہے جبکہ یہ مؤقف بین الاقوامی بحری قوانین سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔
ایران نے "پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے نام سے ایک انتظامی ادارہ قائم کیا ہے۔ ادارے کے مطابق مئی کے آغاز میں کام شروع ہونے کے بعد اب تک 300 سے زائد غیر ایرانی جہاز محفوظ گزرگاہ کے اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں، جن میں اکثریت تیل بردار جہازوں کی ہے۔
ایرانی حکام نے وضاحت کی ہے کہ وصول کی جانے والی رقم ٹول ٹیکس نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جہاز رانی کی سہولیات کے ساتھ آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان کے ماحول کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جن کے لیے بعض اخراجات وصول کرنا ضروری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے پہلے موجود آزادانہ بحری آمدورفت کی صورت حال بحال ہونی چاہیے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو تیل سے مالا مال خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔


