ہومتازہ ترین چین کی "یی وُو باس لیڈیز" نے اے آئی کی مدد سے...

 چین کی "یی وُو باس لیڈیز” نے اے آئی کی مدد سے اپنا کاروبار دیگر براعظموں تک پھیلا دیا

چین کے شہر یی وُو کو دنیا میں چھوٹی اشیا کے ہول سیل کاروبار کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتاہے۔ یہاں مختلف کاروباروں سے وابستہ خواتین کی ایک نسل عالمی تجارت کو نئے انداز میں تشکیل دے رہی ہے۔

مقامی طور پر ”یی وُو باس لیڈیز“ کے نام سے جانی جانے والی یہ خواتین چھوٹے بازاروں کے اسٹالز کو ایسے کاروبار میں تبدیل کر رہی ہیں جو مختلف براعظموں کے صارفین تک پہنچ رہا ہے۔

اور اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹولز کی مدد سے یہ خواتین دنیا سے تیز تر اور زیادہ مؤثر انداز میں روابط قائم کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع بھی تخلیق کر رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): فُو جیانگ یان، موزوں کے سٹور کی مالک، یی وُو انٹرنیشنل ٹریڈ مارکیٹ

”12345، 12345۔ سب سے پہلے ہم کچھ کی ورڈز درج کرتے ہیں اور پھر ’اے آئی جنریٹ‘ پر کلک کرتے ہیں۔ عموماً میں مواد کو انگریزی، ہسپانوی اور عربی میں ترجمہ کرتی ہوں۔ ہم مواد چینی زبان میں لکھتے ہیں اور اے آئی خودکار طور پر اس کا ترجمہ کر دیتا ہے جس سے بیرونِ ملک صارفین کے لئے اسے سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔“

فُو جیانگ یان نے صرف 9.5 مربع میٹر کے ایک چھوٹے اسٹال سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔

آج اے آئی کی مدد سے لائیو اسٹریم اور سرحد پار ای کامرس کی بدولت اُن کا کاروبار ہر سال جرابوں کے تقریباً دو کروڑ جوڑے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے صارفین کو فروخت کر رہا ہے۔

اب انہیں تقریباً 80 فیصد آرڈرز آن لائن موصول ہوتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): فُو جیانگ یان، موزوں کے سٹور کی مالک، یی وُو انٹرنیشنل ٹریڈ مارکیٹ

"ڈیپ سیک کو کثیر لسانی مختصر ویڈیوز کے ساتھ جوڑنے کے بعد ہمارا مواد اچانک وائرل ہو گیا اور اسے 10 کروڑ سے زائد ویوز ملے۔ کاروبار مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔ میرے گاہک مجھ پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں جس سے نہایت مثبت ردعمل کا ایک مؤثر سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔

ماضی میں ہم گاہکوں کے آنے کا انتظار کرتے تھے لیکن اب ہماری ڈیجیٹل رسائی اور اے آئی ٹولز نے فروخت کے بالکل نئے مواقع اور ذرائع کھول دئیے ہیں۔”

یی وُو کی ”باس لیڈیز“ کی کامیابی کے پیچھے ایک وسیع معاونتی نظام بھی تشکیل پا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں خواتین پر مرکوز “مشترکہ خوشحالی ورکشاپس” کا دائرہ یی وُو بھر میں پھیل چکا ہے۔ ان ورکشاپس میں لائیو اسٹریمنگ، اے آئی سے تیار کردہ مواد اور ڈیجیٹل کاروباری آپریشنز کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

ان ورکشاپس کا مقصد زیادہ سے زیادہ دیہی خواتین اور گھروں پر رہنے والی ماؤں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ مہارتیں حاصل کر سکیں، آسان اوقات کار والی ملازمت تلاش کر سکیں اور اپنے کاروبار شروع کر سکیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژو ڈان یِنگ، یی وُو ویمنز فیڈریشن

"ہم ہر سال لائیو اسٹریمنگ سیلز، اے آئی پر مبنی ڈیزائن اور ڈیجیٹل کاروباری آپریشنز پر مشتمل سو سے زائد آن لائن اور آف لائن تربیتی پروگرام منعقد کرتے ہیں تاکہ خواتین اپنی کاروباری مہارتیں بہتر بنا سکیں۔”

صرف سال 2025 ہی میں یی وُو کی "مشترکہ خوشحالی ورکشاپس” نے 10 ہزار سے زائد خواتین کی ماہانہ آمدنی میں اوسطاً 2 ہزار یوآن (تقریباً 295 امریکی ڈالر) سے زائد کا اضافہ کیا۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد خواتین کو اے آئی سے چلنے والی شارٹ ویڈیوز اور لائیو اسٹریمنگ کی تربیت دی گئی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): جِن یِن، ورکشاپ ٹرینی

"آج کی تربیت نے مجھے یہ احساس دلایا کہ اے آئی ایک مفید ٹول ہے جو میرے کاروبار کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): ژاؤ یی شینگ، ورکشاپ ٹرینی

"میں امید کرتی ہوں کہ شارٹ ویڈیوز بنانے سے دنیا بھر کے خریدار مجھے اور میرے برانڈ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔ اس طرح ہم اعتماد بڑھا کر مشترکہ مفاد پر مبنی شراکت قائم کر سکتے ہیں۔”

ہانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں