بیجنگ (شِنہوا) چین میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی نمائندہ ایماکوبے ساندے نے کہا ہے کہ چین نے معذور بچوں کے لئے رسائی اور سہولیات بہتر بنانے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔
ساندے نے بین الاقوامی یوم اطفال سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کا بغیر رکاوٹ رہائشی ماحول کی تعمیر سے متعلق قانون رسائی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانون واضح اصول اور ذمہ داریاں طے کرتا ہے اور زیادہ جامع اور سب کے لئے قابل رسائی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ساندے کے مطابق چین نے بچوں کی فلاح و بہبود کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے معذور بچوں کے خاندانوں کو زیادہ معاونت فراہم کرنے کے لئے بھی اقدامات تیز کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جامع تعلیمی پالیسی نے معذور بچوں کو اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ نمایاں سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں تاہم اس شعبے میں مزید کام کی ضرورت ہے۔
ساندے نے کہا کہ ہر بچے کے لئے بہتر اور مساوی مستقبل بنانے کے لئے ہمیں اپنے سکولوں، معاشرے اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ اور رویوں میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔
یونیسف چین اور اس کے شراکت داروں نے جمعہ کے روز بین الاقوامی یوم اطفال سے قبل معذور بچوں کے حقوق اور ان کی شمولیت کے فروغ کے لئے ایک قومی مہم کا آغاز کیا۔
"بچپن، بغیر رکاوٹوں کے” کے عنوان سے یہ مہم چینی معذور افراد کے امور کی تشہیر و فروغ کے لئے چینی کمیشن کے اشتراک سے شروع کی گئی جو چینی معذور افراد کی فیڈریشن کی قیادت میں کام کرتا ہے۔
کمیشن کے صدر ژانگ وے نے کہا کہ ادارہ معذوری کی روک تھام اور ابتدائی مداخلت کے کامیاب ماڈلز کو مزید وسعت دینے کے لئے یونیسف اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
یونیسف 2022 کے اختتام سے چین کے تعلیمی حکام کے ساتھ مل کر معذور افراد کے لئے تعلیم کے جامع پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ 2025 تک یہ پروگرام چین کے سات صوبائی سطح کے علاقوں میں واقع ایک ہزار 682 سکولوں اور کنڈرگارٹنز کے تقریباً 11 لاکھ بچوں تک پہنچ چکا تھا۔
14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران ہر سال 30 ہزار سے زائد معذور طلبہ نے جامعات میں داخلہ لیا۔


