تیانجن (شِنہوا) چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں منعقدہ ورلڈ انٹیلی جنس ایکسپو میں ایک سمارٹ آئینہ انسان کی صحت کی صورتحال کا فوری جائزہ فراہم کرتا ہے، ایک روبوٹک آرم مہارت سے لذیذ چینی کریپ تیار کرتا ہے اور ایک روبوٹ ‘گو’ کھیلتا ہے اور بچوں کو کہانیاں سناتا ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ جو چیز کبھی سائنس فکشن لگتی تھی اب چین میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
اتوار کو ختم ہونے والی اس 4 روزہ نمائش میں 700 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور ان کے استعمال کے عملی نمونوں کو پیش کیا۔
نمائش میں موجود صنعتی ماہرین کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، عوامی خدمات، مینوفیکچرنگ اور روزمرہ کی زندگی میں تیزی سے ضم ہو رہی ہے جس سے روایتی صنعتوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور ساتھ ہی نئے کاروباری ماڈلز اور ترقی کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
سمارٹ صوتی ٹیکنالوجی اور اے آئی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والی چین کی صف اول کی اے آئی کمپنی آئی فلائی ٹیک کے سٹال پر آئی فلائی ٹیک اے آئی بورڈ نامی ایک سمارٹ بلیک بورڈ نے لوگوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
روایتی تختہ سیاہ کو الیکٹرانک ڈسپلے کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے یہ آلہ ہاتھ سے لکھی گئی ریاضیاتی مساوات کو اسی لمحے ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر دیتا ہے جس سے ریاضی کے مبہم اور مشکل تصورات واضح اور بصری اشکال میں بدل جاتے ہیں۔
اس طرح کی اے آئی سے لیس دیگر ایپلی کیشنز پہلے ہی کلاس رومز کا رخ کر رہی ہیں۔
تیانجن سیکنڈ شِنہوا ہائی سکول میں جسمانی تعلیم کی ایک کلاس کے دوران طلبہ ایک الیکٹرانک اناؤنسر کی ہدایات پر اٹھتے بیٹھتے، چھلانگ لگاتے اور زمین پر اترتے ہیں۔ ان کی چھلانگوں کا فاصلہ فوری طور پر ایک صوتی نظام کے ذریعے نشر کیا جاتا ہے اور ٹیچر کے ڈیوائس پر اپ لوڈ ہو جاتا ہے جس سے جسمانی کارکردگی اور فٹنس کے اشاریوں کا فوری تجزیہ ممکن ہو جاتا ہے۔


