نیو یارک (شِنہوا) امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے ایرانی ادارے ’’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘‘ کو امریکی اقتصادی دباؤ کی مہم کے تحت نئی پابندیوں کے اقدام میں خصوصی طور پر نامزد افراد اور اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی اثاثہ جات کی نگرانی کے متعلق امریکی وزارت خزانہ کے دفتر نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا ہے کہ اس اتھارٹی نے تجارتی بحری آمد و رفت پر ناجائز ٹول عائد کرنے اور محفوظ گزرگاہ کے بدلے جہازوں کو ایرانی ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
امریکی وزارت خزانہ نے یہ انتباہ بھی دیا کہ جو کوئی بھی اس اتھارٹی کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے پابندیوں کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’’ایرانی فوج کی جانب سے عالمی بحری تجارت سے بھتہ خوری کی تازہ ترین کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ ‘اقتصادی دباؤ’ نے اس رجیم کو نقدی کے لئے بے حد پریشان کر دیا ہے۔‘‘
18 مئی کو ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لئے ایک نیا ادارہ ’’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘‘ قائم کیا۔ 20 مئی کو ایکس پر جاری ایک بیان میں اتھارٹی نے آبنائے پر نگرانی کے اپنے اختیارات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لئے ایرانی حکام سے رابطہ کرنا اور اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔


