ہومتازہ ترینامریکی نوجوان چین کی ثقافت اور طرزِ زندگی کا گرویدہ ہو گیا،...

امریکی نوجوان چین کی ثقافت اور طرزِ زندگی کا گرویدہ ہو گیا، دونوں ملکوں کو قریب لانے کا عزم

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ٹائلر گریگسکی والچیوسکی، امریکی طالبعلم، یی چون یونیورسٹی

”تائی چی میرے ذہن کو سکون دیتی ہے۔ خطاطی نے مجھے سکھایا کہ صبر کیسے کیا جاتا ہے جبکہ روایتی چائے میرے لئے دلی سکون کا باعث ہے۔ یہ سب چیزیں اب میری شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں۔“

ٹائلر گریگسکی والچیوسکی کا تعلق امریکی ریاست مشی گن سے ہے۔

ٹائلر کا اپنی اہلیہ سے پہلا رابطہ آن لائن ہوا۔ دو برس تک تقریباً روزانہ ویڈیو کالز کے بعد ٹائلر سال 2023 کے آخر میں اپنی اہلیہ کے آبائی شہر یی چون منتقل ہو گیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ٹائلر گریگسکی والچیوسکی، امریکی طالبعلم، یی چون یونیورسٹی

”میں خاندان کی خاطر چین آیا تھا لیکن جب میں یہاں پہنچا تو غیرمتوقع طور پر مجھے ایک درسگاہ مل گئی جہاں اساتذہ واقعی طلبہ کا خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے مختلف سرگرمیوں کا حصہ بننے کی دعوت دی۔ اس طرح وہ میرے دل کے بہت قریب ہو گئے۔“

ٹائلر امریکہ میں اپنے قیام کے دوران ہی چینی کنگ فو سے متاثر ہو گیا تھا۔

چین میں دو برس گزارنے کے بعد وہ چینی ثقافت کا مزید گرویدہ ہو گیا۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ٹائلر گریگسکی والچیوسکی، امریکی طالبعلم، یی چون یونیورسٹی

”میرا بڑا مضمون چین کی بین الاقوامی تعلیم ہے۔ میں نے یہ بات سیکھی ہے کہ چینی ثقافت صرف کنگ فو یا خطاطی تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ تعلقات، بزرگوں کے احترام اور مل بیٹھ کر کھانا کھانے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل سے محبت ظاہر کرنے کا نام ہے۔ جب میں نے ایک بار یہ بات سمجھ لی تو چین کے حوالے سے مجھے اجنبی پن کا احساس نہیں ہوا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں اپنے گھر میں ہوں۔“

ٹائلر نے بتایا کہ چین میں زندگی آسان، کم خرچ اور محفوظ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں رہتے ہوئے وہ واقعی یہ نہیں جان سکے تھے کہ چین حقیقت میں کیسا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ٹائلر گریگسکی والچیوسکی، امریکی طالبعلم، یی چون یونیورسٹی

”چین آنے سے پہلے ہی میں یہ جانتا تھا کہ جس طرح امریکی میڈیا ہمیں دکھاتا ہے چین اس سے بہت مختلف ہے۔ میں اسے محسوس کر سکتا ہوں۔ لیکن کسی جگہ کے بارے میں جاننا اور وہاں رہنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جب میں یہاں پہنچا تو حقیقی چین میرے سامنے ایک نئی دنیا کی طرح آیا۔ یہ ایسے بڑے شہروں کی طرح تھا جہاں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارتیں تھیں۔ موبائل ادائیگی اور کیو آر کوڈ اسکین کرنے جیسی جدید ٹیکنالوجی تھی۔ تیز رفتار ریل گاڑی بہت شاندار دکھائی دے رہی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی پُرامن قدیم دیہات بھی تھے جبکہ خاموش دیہی علاقوں میں کسان دھان کے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ یہاں آ کر مجھے اندازہ ہوا کہ چین واقعی کتنا خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ اب میں اسی حقیقی چین میں رہتا ہوں اور یہ سو فیصد خوبصورت ہے۔

چین میں زندگی بہت محفوظ ہے۔ آپ کسی خوف کے بغیر رات کے وقت اکیلے چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ آپ کے بچے بھی بے خوف ہو کر باہر کھیل سکتے ہیں۔ چین میں سکیورٹی دراصل ذہنی سکون کا احساس ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ چین دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ یہاں رہ کر میں اس کی وجہ سمجھ گیا ہوں۔“

ٹائلر کا گریجوایشن کے بعد یی چون میں ہی رہنے کا ارادہ ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ یہاں پر انگریزی تدریس یا بین الثقافتی روابط کے شعبے میں کام کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے انہیں زندگی میں دوسرا موقع دیاہے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): ٹائلر گریگسکی والچیوسکی، امریکی طالبعلم، یی چون یونیورسٹی

”چین نے مستقبل کے حوالے سے میرے لئے بہت سے دروازے کھول دئیے ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ چین نے مجھے ایک خوبصورت خاندان کے آغاز کا موقع دیا۔مجھے بیوی، بیٹی اور گھر سب کچھ مجھے چین نے دیا۔ چین نے مجھے زندگی بدل دینے والی تعلیم بھی دی۔

یہاں مجھے مقامی اور صوبائی میڈیا کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا تاکہ چین اور امریکہ کے درمیان رابطے کا پل بنایا جا سکے۔

مجھے چین سے محبت کسی کتاب کے ذریعے نہیں ہوئی بلکہ یہاں کے لوگوں کے ذریعے میں چین سےمحبت کرنے لگا۔ عوامی سطح کے روابط ہی وہ پُل ہوتے ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔“

یی چون،چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں