ہومتازہ ترینچینی برانڈز غیر ملکی صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگے

چینی برانڈز غیر ملکی صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگے

ہانگ ژو (شِنہوا) برطانوی صارفین الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے برانڈز آن لائن تلاش کرتے ہیں تو سب سے اوپر نمودار ہونے والا نام اکثر بی وائی ڈی ہوتا ہے نہ کہ ٹیسلا۔ چینی کار ساز کمپنی بی وائی ڈی نے برطانوی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے۔

تازہ اعداد و شمار اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔ سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز کی جانب سے اس ماہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بی وائی ڈی نے 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران برطانیہ کی ای وی برانڈ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

بی وائی ڈی ان متعدد چینی برانڈز میں شامل ہے جو نہ صرف مسابقتی قیمتوں بلکہ تیز رفتار تکنیکی جدت، ثقافتی اثر و رسوخ اور برانڈ کی مضبوط شناخت کے ذریعے عالمی منڈیوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں اور غیر ملکی صارفین کو متاثر کر رہے ہیں۔

چینی برانڈز کی یہی بڑھتی ہوئی عالمی موجودگی چین کے مشرقی صوبہ ژے جیانگ کے شہر دے چھنگ میں منعقدہ عالمی برانڈ موگان شان سربراہ اجلاس 2026 میں بھی نمایاں نظر آئی، جہاں بی وائی ڈی کو چینی سمارٹ فون ساز کمپنی ویوو، ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا اور دیگر برانڈز کے ساتھ "میرے پسندیدہ چینی برانڈز کو لائیک کریں”مہم میں سراہا گیا۔

تکنیکی جدت چینی برانڈز کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مجسم ذہانت کے جدید شعبے میں یونی ٹری روبوٹکس چین کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کی ایک نمایاں مثال بن کر ابھری ہے۔

عالمی برانڈ موگان شان سربراہ اجلاس کے مرکزی فورم سے خطاب کرتے ہوئے یونی ٹری روبوٹکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو وانگ شنگ شنگ نے کہا کہ کمپنی نے 2016 میں اپنے قیام سے ہی جدت کو اپنے برانڈ کی بنیاد بنایا اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے کے بجائے بنیادی پرزہ جات خود تیار کرنے پر زور دیا۔

وانگ نے کہا کہ موٹرز سے لے کر بنیادی سینسرز اور موشن کنٹرول الگورتھمز تک ہر اہم ٹیکنالوجی کمپنی کے اندر تیار کی گئی ہے جسے برسوں کی مقامی تحقیق اور مسلسل بہتری کے ذریعے نکھارا گیا ہے۔

یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2025 میں کمپنی کے انسان نما روبوٹس کی ترسیل 5 ہزار 500 یونٹس سے تجاوز کر گئی جبکہ چار ٹانگوں والے روبوٹس کی عالمی منڈی میں اس کا حصہ 60 سے 70 فیصد کے درمیان مستحکم رہا۔

تکنیکی جدت کے علاوہ ثقافتی ہم آہنگی بھی چینی برانڈز کے عالمی عروج کی ایک اہم قوت بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک منفرد مثال ژو ژینگ ڈونگ ہیں، جنہوں نے چینی خوشبو کی معدوم ہوتی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خصوصی سٹورز بیرون ملک بھی متعارف کرائے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں