چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقےمیں 20 اپریل کو ریلیز ہونے والی فلم "وان تونگ شو” موسیقار وان تونگ شو کی سچی کہانی بیان کرتی ہے جو مارچ 1951 میں ہزاروں میل کا سفر طے کرکے اس علاقے میں پہنچے تھے۔
وہاں موسیقی کےاس ماہر نے ستر برس سے زائد عمر کے ویغور موسیقار تُردی آہون کی پیش کردہ ’’بارہ مقام‘‘ کی ریکارڈنگ کی۔
’’مقام‘‘ ویغور ثقافت کا ایک جامع فن ہے جس میں گائیکی، رقص اور موسیقی کو یکجا کیا جاتا ہے۔ سال 2005 میں اسے یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
’’بارہ مقام‘‘ کو اس فن کی سب سے نمایاں اور نمائندہ شکل سمجھا جاتا ہے جسے مکمل طور پر گانے میں 20 گھنٹے سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
اس زمانے میں آواز محفوظ کرنے کے لئے صرف اسٹیل وائر ریکارڈر ہی دستیاب تھا۔
دو ماہ تک جاری رہنے والے اس کام کے دوران تُردی آہون دن کے وقت گاتے رہے جبکہ وان تھونگ شو ان کی آواز ریکارڈ کرتے رہے۔ رات کے وقت وان اور ان کی اہلیہ اس موسیقی کو تحریری دھنوں کی صورت میں منتقل کرتے تھے۔
اس محنت کے اختتام تک تُردی آہون کی گائیکی سے بھرے 24 ریل تیار کئے جا چکے تھے۔
’’بارہ مقام‘‘ کی جمع کی گئی موسیقی کی تحریری دھنیں اور ان کے ساتھ موجود ریکارڈز سال 1960 میں شائع کئے گئے جن میں 320 موسیقی کے حصے اور 2 ہزار 990 شعری مصرعے شامل تھے۔
اس اشاعت نے ’’بارہ مقام‘‘ کو زبانی روایت سے تحریری شکل میں منتقل کر دیا۔
آج ویغور مقام کا فن خوب فروغ پا چکا ہے اور پہلے سے زیادہ زندہ و متحرک نظر آتا ہے۔سنکیانگ آرٹس تھیٹر کے مقام آرٹ گروپ نے ثقافتی تبادلے کی پرفارمنسز کے لئے 30 سے زائد ممالک اور خطوں کا دورہ کیا ہے۔
ارمچی، چین سے شنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


